’شامی افواج دولت اسلامیہ کے گڑھ رقہ میں داخل‘

،تصویر کا ذریعہReuters
شام میں سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی فورسز خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کےگڑھ کے قریب رقہ صوبے میں داخل ہو گئی ہیں۔
برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرئین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اس پیش قدمی میں شدید روسی فضائی حملوں نے مدد فراہم کی۔ تاہم شام اور روس کی جانب سے اس کی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
مئی میں امریکہ کے حمایت یافتہ اتحاد میں شامل شامی کردوں اور عرب جنگجوؤں نے دولتِ اسلامیہ کو شہر رقہ سے بے دخل کرنے کے لیے مہم کا آغاز کیا تھا۔
٭ <link type="page"><caption> شام: دولتِ اسلامیہ کے خلاف رقہ میں مہم کا آغاز</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/05/160524_kurd_launch_campain_raqqa_rwa" platform="highweb"/></link>
دولت اسلامیہ نے رقہ شہر پر 2013 میں صدر بشار الاسد کے مخالف باغیوں سے قبضہ حاصل کیا تھا۔
سیرئین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ شامی فوجی حما صوبے سے جنوب مغرب کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اس دوران اتھریا طبقہ روڈ پر ان کے اور دولت اسلامیہ کے جنگجؤوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
شامی افواج جھیل اسد اور رقہ کو حلب سے ملانے والی سڑک کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
طبقہ میں اہم ہوائی اڈا موجود ہے جس پر دولت اسلامیہ نے اگست 2014 میں قبضہ کر لیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال کیا جا رہا ہے کہ شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے اپنے 30,000 جنگجؤں کو بھی اس مہم کے لیے تعینات کیا ہے۔
روس اس پیش قدمی میں ایس ڈی ایف اور امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے کا وعدہ کر چکا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق رقہ میں دولت اسلامیہ کے تقریباً تین ہزار سے پانچ ہزار کے قریب جنگجو موجود ہیں۔







