رقہ ڈائری: ’ہم نے تو سمجھ لیا تھا کہ تم مر گئے‘

رقہ میں دولت اسلامیہ کی جانب سے سگریٹ اور ٹی وی پر پابندی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنرقہ میں دولت اسلامیہ کی جانب سے سگریٹ اور ٹی وی پر پابندی ہے

اب تمام دن ایک جیسے لگتے ہیں۔ انقلاب نے میری امیدوں اور خوابوں کو جگا دیا ہے۔ میں نے اپنے ملک کو چھوڑنے اور کہیں اور ایک بہتر زندگی گزارنے کا خواب دیکھا تھا۔۔۔ لیکن وہ اب ممکن نہیں رہا۔

میرے ملک کو میری ضرورت ہے۔ میں اس کی پکار کو ایسے سنتا ہوں جیسے ایک ماں بیٹے کو پکارتی ہے۔

سویرے سویرے جنگی جہازوں کی آوازوں نے مجھے جگا دیا۔۔۔ میں دھماکوں اور پڑوس میں موجود بچوں کے رونے کی آوازیں سن رہا ہوں۔

یہ تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے اور اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خواب دیکھنا چھوڑ کر زندہ رہنے اور زندگی پر توجہ دی جائے۔

دھماکوں کی آوازیں قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی ہیں۔ میں اور میرا بھائی یہ دیکھنے کے لیے باہر نکلے کہ آخر کیا ہو رہا ہے؟

رقہ میں زندہ رہنا اور جان کا بچ جانا ہی کافی ہے
،تصویر کا کیپشنرقہ میں زندہ رہنا اور جان کا بچ جانا ہی کافی ہے

میرا ایک پڑوسی پاگلوں کی طرح ادھر ادھر بھاگ رہا ہے اور سب سے یہ پوچھ رہا ہے کہ کسی نے اس کے بیٹے کو دیکھا ہے؟ وہ روٹی خریدنے کے لیے باہر گیا تھا۔

ہمارے اردگرد موجود لوگوں نے بتایا کہ نعیم کے پاس ابو محمد کے گھر پر بم گرا ہے۔

ہم جتنا تیز بھاگ سکتے تھے بھاگ کر وہاں پہنچے، وہاں چاروں طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ ان میں سے ایک حاملہ عورت کی لاش تھی۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ چند ہی دنوں بعد اس کے ہاں بچے کی ولادت متوقع تھی۔

اس کے بعد جنگی طیاروں کی آواز تیز تر ہوتی گئی۔ ایک ہمارے سر پر آ گیا اور ہم سب بکھر گئے۔ یہ سفید طیارہ ہے جیسا گذشتہ ہفتے آیا تھا اور ہم پر حملہ آور ہوا تھا۔ یہ روسی طیارہ ہے۔

جب سارے طیارے چلے گئے، میں اٹھا اور اپنی دکان پہنچا جہاں میں کام کرتا ہوں۔ میرا باس چائے پی رہا تھا اور اس نے مجھے عجیب طرح سے مسکرا کر دیکھا۔ میں نے غور کیا کہ وہ سگریٹ نہیں پی رہا تھا۔ یہ عجیب بات تھی کیونکہ وہ چائے کے ساتھ عام طور پر سگریٹ پیتا تھا۔

دھماکے میں لاشیں بکھری پڑی تھیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشندھماکے میں لاشیں بکھری پڑی تھیں

لیکن دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے سگریٹ نوشی پر بابندی لگا دی تھی۔ اس کی سگریٹ کی بو سونگھ کر ان لوگوں نے سب کے سامنے اسے بہت ذلیل کیا تھا۔ پھر انھوں نے اسے مارا تھا جیسے وہ کوئی مجرم ہو۔

ہم بات کر رہے تھے کہ دو آدمی کچھ کاغذات لے کر پڑوس کی دکان میں داخل ہوئے۔ چند لمحوں کے بعد ہماری دکان میں آئے۔ انھوں نے ہمیں دونوں کاغذات تھما دیے اور کچھ کہے بغیر چلے گئے۔

یہ دولت اسلامیہ کی جانب سے فرمان تھا جس میں تمام دکانوں میں ٹی وی پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اسے ہٹانے کے لیے ہمیں ایک ہفتے کی مہلت دی گئی تھی۔ کیا دنیا سے باتیں کرنا ختم کرنا ان کے لیے کافی نہیں تھا کہ اب انھیں ہمارا دنیاکو دیکھنا بھی گوارا نہیں رہا؟

تھوڑی دیر بعد ایک دوست دکان میں آيا۔ جب گذشتہ ماہ چوتھی بار دولت اسلامیہ نے اسے گرفتار کیا تھا تب سے ہم نے اسے نہیں دیکھا تھا۔

’تم زندہ ہو؟‘ میں چیخا۔ ’ہم نے تو سمجھ لیا تھا کہ تم مر گئے ہو؟‘

وہ عجیب سے مسکراہٹ کے ساتھ ہنسا۔ اس نے کہا کہ پچھلی بار اسے اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کہ اس کی شلوار زیادہ لمبی تھی۔ دولت اسلامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ٹخنوں سے اوپر ہونی چاہیے۔ جو کوئی بھی اس کی خلاف ورزی کرے گا اسے ایک ہفتے کا شرعی کورس کرنا ہو گا۔

دولت اسلامیہ شریعت کے نفاذ کے نام پر گرفتاریاں کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندولت اسلامیہ شریعت کے نفاذ کے نام پر گرفتاریاں کر رہی ہے

اس کے بعد میرے موبائل کی گھنٹی بجی۔ میری ماں کا فون تھا۔ انھوں نے گھر کے لیے بعض کھانے کی چیزیں خریدنے کے لیے کہا لیکن میں ان دنوں بہت زیادہ چیزیں نہیں خرید سکتا تھا۔

ٹماٹر کی قیمت 400 شامی پاؤنڈ تھی چاول کی قیمت 500 شامی پاؤنڈ پہنچ چکی تھی۔ یہ بہت برا تھا۔

راستے بھر میں یہ بہانے تلاش کر رہا تھا کہ میں اتنے کم سامان کے ساتھ کیوں آیا ہوں لیکن اس کی ضرورت نہیں تھی۔

بہت سے والدین کی طرح میری ماں بھی اس بات پر خوش ہو جاتی کہ ابھی تک میں گرفتار نہیں ہوا یا مارا نہیں گيا اور ایک بار پھر صحیح سلامت گھر پہنچ گیا۔