پچاس سال بعد انسان کی چاند پر واپسی، ناسا کا ’آرٹیمس دوم‘ خلانوردوں کو وہاں تک کیسے لے جائے گا؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, ربیکاموریل، ایلیسن فرانسس، کیون چرچ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
ناسا کی جانب سے انسانوں کو تقریباً 50 سال کے بعد چاند پر لے جانے والا پہلا چاند مشن فروری کے پہلے ہفتے میں روانہ ہو گا۔
پچاس سال سے زیادہ عرصے بعد اس انسانی مشن کے لیے ناسا کے دیوہیکل سپیس لانچ سسٹم ایس ایل ایس مون راکٹ اور اوریون سپیس کیپسول کو فلوریڈا کے لانچ پیڈ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
98 میٹر بلند سپیس لانچ سسٹم کوتقریباً بارہ گھنٹوں میں گاڑیوں کی اسمبلی بلڈنگ سے عمودی حالت میں چار میل (6.5 کلومیٹر) کے سفر کے بعد لانچ پیڈ تک پہنچایا گیا ۔
10 روزہ آرٹیمس دوم مشن میں چار خلا نوردوں کو چاند کے گرد سفر کا موقع ملے گا تاہم روانگی سے قبل اب ایس ایل ایس اور سپیس کیپسول کے حتمی ٹیسٹ، جانچ اور ایک ’ڈریس ریہرسل‘ کی جائے گی
ناسا کا کہنا ہے کہ سب سے جلد ممکنہ لانچ کی تاریخ 6 فروری ہے، تاہم مارچ اور اپریل میں بھی لانچ کے مزید مواقع موجود ہیں۔
ناسا کے مطابق یہ مشن اپنے خلا نوردوں کو خلا میں اس مقام تک لے جا سکتا ہے جہاں تک پہلے کوئی نہیں گیا۔
اس مشن کا مقصد مستقبل میں انسان کو دوبارہ چاند کی سطح پر اتارنے کی راہ ہموار کرنا ہے جو کہ 1960 اور 1970 کی دہائی کے اپولو مشنز کے بعد اب پہلی بار ہونے جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNASA
اس راکٹ نے مقامی وقت صبح 07:04 منٹ پر حرکت شروع کی اور کینیڈی سپیس سینٹر کے لانچ پیڈ 39B پر شام 18:41 منٹ پر پہنچا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
راکٹ کو کرالر ٹرانسپورٹر نامی ایک بڑی مشین کے ذریعے منتقل کیا گیا جس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 0.82 میل فی گھنٹہ تھی۔ اس تاریخی منظر کو براہِ راست کوریج میں دکھایا گیا۔
ناسا نے کہا ہے کہ اگلے چند دنوں میں راکٹ کو اس کے ’ویٹ ڈریس ریہرسل‘ کے لیے تیار کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ یہ ایک ایسا ٹیسٹ ہے جس میں ایندھن بھرنے اور کاؤنٹ ڈاؤن کے طریقہ کار کی جانچ کی جاتی ہے۔
آرٹیمس دوم کے عملے میں ناسا کے ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ جبکہ کینیڈین خلا نورد جیریمی ہینسن شامل ہیں جنھوں نے کینیڈی سپیس سینٹر سے راکٹ کی منتقلی کا مشاہدہ کیا۔
چند ہی ہفتوں میں یہ چاروں خلا نورد راکٹ کے اوپر نصب ایک خلائی جہاز میں بیٹھے چاند کی جانب روانہ ہونے کے لیے تیار ہوں گے۔
یہ 50 سال سے زیادہ عرصے بعد پہلا انسانی مشن ہوگا جو چاند کی جانب روانہ ہوگا جب کہ آخری بار اپولو 17 دسمبر 1972 میں چاند کی سطح پر اترا تھا۔

،تصویر کا ذریعہNASA
تین گھنٹے میں چاند کا مشاہدہ، تصاویر اور ارضیات کا مطالعہ
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ناسا کا دعویٰ ہے کہ یہ مشن اپنے خلا بازوں کو اس مقام تک لے جا سکتا ہے جہاں تک اس سے پہلے خلا میں کوئی نہیں جا سکا۔
آرٹیمس دوم کا مقصد چاند پر لینڈنگ نہیں بلکہ یہ مستقبل کے آرٹیمس سوم مشن کے لیے وہ بنیاد فراہم کرے گا جس سے انسان چاند پر اتر سکیں گے۔
ناسا کے مطابق آرٹیمس سوم کا لانچ 2027 سے پہلے نہیں ہوگا تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی سب سے جلد ممکنہ تاریخ 2028 ہے۔
ناسا کی کرسٹینا کوچ نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ راکٹ کو دیکھنا ان کے لیے ایک حیرت انگیز احساس تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’خلانورد لانچ کے دن سب سے پرسکون لوگ ہوتے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ یہ اس لیے محسوس ہوتا ہے کیونکہ ہم اس مشن کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں جس کے لیے ہم یہاں آئے ہیں اور جس کی ہم نے تربیت لی ہے۔‘
جبکہ جیریمی ہینسن کو امید ہے کہ یہ مشن دنیا کو متاثر کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’چاند کو میں نے ہمیشہ معمول کی ایک چیز سمجھا ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی اسے دیکھا ہے، لیکن بس ایک نظر ڈال کر ہٹ جاتا تھا۔‘
’لیکن اب میں اسے زیادہ غور سے دیکھ رہا ہوں، اور میرا خیال ہے کہ دوسرے بھی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے اور چاند کو قریبے سے دیکھ سکیں گے، کیونکہ انسان چاند کے پچھلے حصے کے گرد پرواز کریں گے اور یہ انسانیت کے لیے اچھا قدم ہو گا۔‘
چاند کی جانب روانگی سے پہلے آرٹیمس دوم کے مشن کے ابتدائی دو دن زمین کے گرد مدار میں گزریں گے۔
کرسٹینا کوچ نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’ہم فوراً ایک ایسے مدار میں جائیں گے جو 40,000 میل دور ہوگا، یعنی چاند کے راستے کا پانچواں حصہ۔ ہم زمین کو کھڑکی سے ایک مکمل گیند کی طرح دیکھیں گے، جو منظر ہم میں سے کسی نے پہلے نہیں دیکھا۔‘
’اور پھر ہم ڈھائی لاکھ میل دور جائیں گے، راستے میں ہم بہت سا سائنسی کام اور آپریشنز کریں گے۔‘
جب خلاباز چاند کے پچھلے حصے کے گرد پرواز کریں گے تو عملے کے پاس تین گھنٹے مخصوص ہوں گے تاکہ وہ چاند کا مشاہدہ کریں، تصاویر لیں اور اس کی ارضیات کا مطالعہ کریں، جو مستقبل میں چاند کے جنوبی قطب پر لینڈنگ کی منصوبہ بندی اور تیاری میں مدد دے گا۔
اوریون خلائی جہاز کے جس اہم حصے میں خلا نورد سفر کریں گے اسے جرمنی کے شہر بریمن میں بنایا گیا ہے۔
یہ حصہ ’یورپی سروس ماڈیول‘ کہلاتا ہے اور اسے ایئربس نے تیار کیا ہے۔ یہ یورپی خلائی ایجنسی کی طرف سے مشن میں تعاون ہے۔
ایئربس کی انجینئر سیان کلیور کہتی ہیں کہ ’یہ ماڈیول بہت ضروری ہے اور اس کے بغیر ہم چاند تک نہیں جا سکتے۔ یہ وہ انجن فراہم کرتا ہے جس کی ضرورت اوریون کو ہے۔‘
یہ ماڈیول راکٹ کو آگے بڑھنے کے لیے طاقت دیتا ہے۔ اس کے بڑے سولر پینل جہاز کے لیے بجلی پیدا کرتے ہیں۔
’اس میں آکسیجن اور نائٹروجن کے بڑے ٹینک ہیں، جنھیں ملا کر ہوا بنائی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ پانی بھی ہے، تاکہ خلا نوردوں کو سفر کے دوران زندہ رہنے کے لیے تمام ضروریات فراہم کر سکیں۔‘
’عملے کی حفاظت پہلی ترجیح ہے‘

،تصویر کا ذریعہKevin Church/ BBC News
اپنے صاف ستھرے کمرے میں ٹیم مستقبل کے آرٹیمس مشنز کے لیے مزید ماڈیول بنا رہی ہے۔ ہر ماڈیول کو تیار کرنے میں تقریباً 18 مہینے لگتے ہیں اور اسے ڈیزائن کرنے میں ہزاروں انجینئرنگ گھنٹے صرف ہوئے ہیں۔ جہاز میں موجود ہر چیز کا بالکل درست کام کرنا ضروری ہے۔
کلیور کہتی ہیں،’ہمیں خلا بازوں کو چاند تک لے جانا ہے اور پھر انھیں باحفاظت واپس لانا ہے۔‘
اب جب راکٹ لانچ پیڈ 39B پر موجود ہے، آرٹیمس ٹیم اسے روانگی کے لیے تیار کرنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔
یہ مشن پہلے ہی کئی سال کی تاخیر کا شکار رہا ہے اور ناسا پر دباؤ ہے کہ خلا بازوں کو جلد روانہ کرے۔ تاہم امریکی خلائی ادارے نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ حفاظت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
آرٹیمس مشن مینجمنٹ ٹیم کے سربراہ جان ہنی کٹ نے کہا ’میرا ایک ہی کام ہے، اور وہ ہے ریڈ، وکٹر، کرسٹینا اور جیریمی کو محفوظ طریقے سے واپس لانا۔ ہم تب ہی روانہ ہوں گے جب ہم تیار ہوں گے۔عملے کی حفاظت ہماری پہلی ترجیح ہے۔‘












