رقہ ڈائری: ’وہ گلیوں میں جاسوسوں کو ڈھونڈ رہے تھے‘

،تصویر کا ذریعہ
’کسی رحم اور انسانیت کے بغیر اس نے مجھے کوڑے مارے۔ مجھے اس کی آنکھوں میں فخر نظر آر ہا تھا۔
میں جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ کی مذہبی پولیس حسبہ کے ہیڈکوارٹر سے نکلا اور جب اپنے دروازے پر پہنچا تو میں بے ہوش ہوگيا۔
میری روداد سننے کے بعد کہ میرے ساتھ کیا ہوا میری حاملہ بہن صدمے میں چلی گئی اور اس کا حمل ضائع ہونے لگا۔ ہمیں معلوم تھا کہ ہمیں اسے جلد از جلد ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیے۔
لیکن جب ہم کلینک پر پہنچے تو وہ بند تھا۔ باہر ایک شخص کھڑا تھا جس نے بتایا کہ ’ڈاکٹر برسوں سے میرا پڑوسی تھا لیکن دولت اسلامیہ والے اسے لے گئے اور کلینک کو بند کر دیا۔ وہ مرد ڈاکٹروں کے خواتین کا علاج کرنے کے خلاف ہیں۔‘
ہمیں کسی خاتون گائناکولوجسٹ کی تلاش میں نکلنا تھا۔ بہن کو گھر بھیج دیا گيا تاکہ وہ آرام کر سکے۔
اسی دن بعد میں میری اپنے ایک پرانے دوست سے اچانک ملاقات ہوئی۔ مجھے حیران و پریشان دیکھ کر اس نے مجھے ایک کنارے کھینچ کر لے گیا اور کہنے لگا: ’ہم نے دولت اسلامیہ کے خلاف ایک خفیہ گروپ بنایا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ساری دنیا یہ جان لے کہ یہ قاتل ہمارے شہر میں کیا کر رہے ہیں۔ تم بھی اس میں شریک ہو سکتے ہو۔‘

میں واپسی میں اپنے دوست محمد سے ملا جو دکان چلاتا ہے۔ اس نے سڑک کی دوسری جانب ایک سٹور کی جانب اشارہ کیا جس کے مالک کو ہم کئی سال سے جانتے تھے۔ دولت اسلامیہ کا ایک گروپ اس سے بات کر رہا تھا۔ ان میں سے ایک کے ہاتھ میں چند کاغذات تھے۔
ان میں سے ایک نے چلا کر پوچھا ’یہ دکان کس کی ہے؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد نے جواب دیا، ’یہ میری ہے کہیے، میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟‘
اس نے کہا: ’ہم زکوٰۃ کے شعبے سے ہیں اور ہم یہاں تم سے زکوٰۃ وصول کرنے آئے ہیں۔‘
زکوٰۃ ایک قسم کا ٹیکس ہے۔محمد نے کہا کہ اس نے پہلے ہی واجب الادا زکوٰۃ ادا کر رکھی ہے۔
’خاموش‘، دولت اسلامیہ کے آدمی نے کہا: ’تمیں ایک لاکھ شامی پاؤنڈ ادا کرنا ہے۔ محمد کی سانسیں پھول گئیں کہ یہ تو بہت زیادہ ہے لیکن اس نے اتنی رقم ادا کی۔‘

جن لوگوں نے مخالفت کی ان کے سر قلم کرکے شدید سزا کی علامت کے طور پر پارک کی باڑھ اور لیمپ پوسٹ سے لٹکا دیے گئے تھے۔
اس رات ہمارا گھر دھماکوں سے پھٹ پڑا۔ ہم نے بمباروں کو اپنے سر پر دیکھا۔ ہم نے خبر دیکھنے کے لیے ٹی وی آن کیا تو پتہ چلا کہ بین الاقوامی اتحاد دولت اسلامیہ کے خلاف پہلا فضائی حملہ کر رہا ہے۔
دوسرے دن ایک ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ دولت اسلامیہ کی بہت سی عمارتوں کو نشانہ بنایا گيا ہے۔
اس نے مجھے بتایا کہ دولتِ اسلامیہ والے گلیوں میں یہ پتہ چلانے کے لیے گھوم رہی ہے کہ کس نے انھیں ان کے گھر کا پتہ بتایا ہے۔
ایک بڑے سے سوراخ کے نزدیک ایک بھیڑ جمع تھی۔ اس میں ایک عورت چھپی ہوئی تھی۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور وہاں کیا کررہی ہے۔
اس سے قبل کہ ہمیں جواب ملتا ایک نقاب پوش نے فرمان پڑھنا شروع کیا۔ ’یہ عورت زناکار ہے اور اس کی سزا سنگسار کیا جانا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ
سر پر اڑتے ہوئے جہاز کے شور میں اس کی آواز دب گئی، خوانچہ فروش چیخنے لگے، ’بھاگو! چھپو، چھپ جاؤ!‘
بازار کو نشانہ بنایا گيا اور بڑے بڑے دھماکے ہوئےاور جسم کے چیتھڑے ہر طرف بکھرے ہوئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر شہری تھے۔ یہ روسی فضائی حملہ تھا جو بظاہر دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔
کیا ہم نے زمین پر جس دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں وہ کافی نہیں جو اب آسمان سے بھی ہم پر تباہی نازل ہو رہی ہے!







