’بالکل حرکت مت کرنا یہ ڈھائی میٹر لمبا اژدہا ہے‘: آدھی رات کو آسٹریلوی خاتون کے ساتھ کیا ہوا؟

A carpet python curled around the leg of an outdoor table

،تصویر کا ذریعہRachel Bloor

،تصویر کا کیپشنریچل کے خیال میں اژدہا کھڑکی کے راستے کمرے میں داخل ہوا اور اس کے نیچے موجود بستر پر آ گیا تھا
    • مصنف, ٹفنی ٹرنبل
    • عہدہ, سڈنی

آدھی رات کو گہری نیند میں جب اچانک ریچل بلور کی آنکھ کھلی تو سینے پر بھاری بوجھ کا احساس موجود تھا

جاگنے پر انھوں نے اپنے کتے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس کی جگہ خود کو ایک نرم اور رینگتی ہوئی چیز کو سہلاتے ہوئے پایا۔

اسی اثنا میں بستر پر ہی موجود ان کے ساتھی نے لیمپ آن کیا اور برسبین سے تعلق رکھنے والے اس جوڑے کے خدشات کی تصدیق ہو گئی۔

ریچل بلور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس نے کہا، اوہ بے بی، بالکل حرکت مت کرنا یہ تقریباً ڈھائی میٹر لمبا اژدہا ہے۔‘

ریچل کے مطابق یہ سن کر سب سے پہلے تو ان کے منہ سے گالی نکلی اور پھر فوراً ہی انھوں نے اپنے کتوں کو کمرے سے باہر جانے کو کہا۔

’میں نے سوچا اگر میرے دالمیشینز کو پتا چل گیا کہ یہاں سانپ ہے تو پھرتباہی ہو گی۔‘

کتوں کو کمرے سے باہر نکالنے اور اپنے شوہر کو ان کے پاس رہنے کی تلقین کرنے کے بعد ریچل نے احتیاط سے خود باہر نکالنے کی کوشش شروع کی۔

’میں بس کمبل کے نیچے سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ ساتھ ہی یہ سوچ بھی رہی تھی ’کیا یہ واقعی ہو رہا ہے؟ یہ بہت عجیب چیز ہے۔‘

ریچل کے خیال میں یہ اژدہا جو زہریلا نہیں تھا، ان کی کھڑکی کے راستے کمرے میں داخل ہوا اور ان کے نیچے موجود بستر پر آ گیا تھا۔

The body of a carpet python is draped from a window down to a bed below that has colourful green pillos and grey sheets.

،تصویر کا ذریعہRachel Bloor

،تصویر کا کیپشناژدہا اتنا لمبا تھا کہ اس کی دم کھڑکی سے باہر ہی لٹک رہی تھی

اژدہے سے دور ہونے کے بعد ریچل نے اسے اسی راستے سے واپس نکالنے کی کوشش شروع کر دی جس سے وہ آیا تھا۔

’وہ اتنا بڑا تھا کہ اگرچہ وہ مجھ سے لپٹا ہوا تھا پھر بھی اس کی دم کا کچھ حصہ ابھی بھی کھڑکی سے باہر ہی تھا۔ میں نے اسے پکڑا اور تب بھی وہ زیادہ گھبرایا ہوا نہیں لگ رہا تھا۔ وہ میرے ہاتھ میں بس مچل رہا تھا۔‘

ریچل کے مطابق ان کے مقابلے میں ان کے شوہر زیادہ گھبرائے ہوئے تھے لیکن وہ خود زیادہ پریشان نہیں ہوئیں کیونکہ وہ ایسے علاقے میں پلی بڑھی ہیں جہاں سانپ عام پائے جاتے تھے۔

’میرا خیال ہے اگر آپ پرسکون رہیں تو وہ بھی پرسکون رہتے ہیں۔‘

ریچل کا کہنا ہے کہ شکر ہے کہ یہ اژدہا تھا اور اگر یہ کین ٹوڈ (بید کا مینڈک) ہوتا، جو ملک کے سب سے نقصان دہ اور بدصورت کیڑوں میں سے ایک ہے، تو کہانی الگ ہوتی۔‘

’میں انھیں برداشت نہیں کر سکتی، انھیں دیکھ کر مجھے قے آنے لگتی ہے تو اگر یہ بید کا مینڈک ہوتا تو مجھے بہت ڈر لگتا۔‘

خیال رہے کہ کارپٹ پائتھن آسٹریلیا کے ساحلی علاقوں میں عام ہیں اورعام طور پر چھوٹے ممالیہ جیسے پرندوں کو کھاتے ہیں۔