رقہ پر فضائی حملے میں ’33 شدت پسند ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہReuters
شام میں سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ فرانس اور دیگر ممالک کی جانب سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے گڑھ رقہ پر فضائی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 33 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ’سیریئن آبزرویٹری‘ نے کہا ہے کہ کئی ہلاکتیں شہر میں قائم چوکیوں کو ہدف بنانے کے نتیجے میں پیش آئی تھیں۔
سیریئن آبزرویٹری کے مطابق شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے اراکین کے رشتہ دار رقہ سے نکل کر کے تنظیم کے زیر قبضہ دیگر علاقوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے منسلک ایک خبر رساں ادارے کی اطلاعات کے مطابق اتحادی فوج کے فضائی حملوں کے نتیجے میں کوئی ہلاکتیں پیش نہیں آئی ہیں۔
’عمعاق‘ ایجنسی نے پیر اور منگل کے روز کہا تھا کہ فرانسیسی جنگی طیاروں نے صرف ’خالی مقامات‘ کو اپنا ہدف بنایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
رقعہ میں اپنے مخبروں کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے سیریئن آبزرویٹری نے کہا ہے کہ فضائی حملوں میں 33 سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں لیکن ان کی لاشیں اتنی بری طرح مسخ ہو چکی تھیں کہ ان کی صحیح تعداد بتانا مشکل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیریئن آبزرویٹری نے مزید کہا کہ نام نہاد تنظیم دولت تنظیم اسلامیہ کے جن اسلحے کے اڈوں اور کمانڈ سینٹروں کو نشانہ بنایا گیا وہاں پر معمور سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ تمام عملے کو ہٹا لیا گیا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پیرس حملوں کے بعد منگل کو کہا تھا کے اگلے چند ہفتوں میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ ’اس سے بھی شدید دباؤ‘ کا سامنا کرے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری شدت پسندوں کو ’ جڑ سے ختم کرنے‘ کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے گی۔
تاہم بدھ کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوراوف نے مغربی ممالک کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ دولت اسلامیہ کے خلاف ’واقعی میں ایک عالمی اتحاد متحرک‘ کرنا چاہتے ہیں تو انھیں شامی صدر بشار الاسد کے مستعفی ہونے کا مطالبہ واپس لینا ہوگا۔







