رقہ ڈائری: ’وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‘

دن کے اوقات میں پہلی بار سورج دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ روشن موسم سے مجھے پرامید کیا۔ پورے ہفتے میں پہلی بار تھی جب میں خود پر طاری افسردگی کو ہٹا سکا تھا۔
لیکن ہماری دکان میں چیزیں بہت گرد آلودہ ہو رہی تھیں۔ وہ بک نہیں رہی تھیں۔
بہت سی زیرِ قبضہ علاقوں اور داعش کی چیک پوسٹوں سے گزر کر یہاں پہنچنے والی یہ اشیا بہت مہنگی پڑتی تھیں۔
ہم جو اشیا داعش کی آمد سے پہلے ایک ہفتے میں فروخت کرتے تھے اب انھیں دو ماہ سے کچھ کم وقت لگتا تھا۔
اور ایسا صرف قیمتوں کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ بات یہ بھی تھی کہ بہت سے لوگ باہر گلیوں میں نکلتے ہی نہیں تھے۔
حالات کو مزید خراب کرنے کے لیے داعش نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ تمام دکاندار اپنی دکان میں موجود اشیا کی قیمت کو 25 فیصد تک بڑھا سکتے ہیں اور اس قیمت پر انھوں نے ہم پر ٹیکس لگا دیا۔ اس کے علاوہ ان کی صفائی اور بجلی کا خرچ بھی تھا۔ دراصل ہمیں نقصان ہو رہا تھا اور کاروبار کرنے والے ناامید ہو گئے تھے۔
اپنی اس پریشانی کے دوران میری ملاقات اپنے ایک دوست کی والدہ سے ہوئی جو ایک گروہ کے ہمراہ میری دکان پر آئی تھیں۔

میرا دوست انقلاب کے وقت میرے ساتھ تھا مگر پھر داعش کے قبضے کے بعد اس نے سب کچھ چھوڑ دیا اور شادی کر لی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ پیچارہ اس بات کا ادراک نہیں رکھتا تھا کہ وہ اب بھی اس کے پیچھے آئیں گے۔ داعش انقلاب سے اس کے سابقہ تعلق سے آگاہ تھی اور متعدد بار سے گرفتار کیا جا چکا تھا۔
اس کی والدہ بہت پریشان اور غم زدہ دکھائی دے رہی تھیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے۔ تو انھوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو گھر پر چھاپے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔
میں نے انھیں تسلی دینے کی کوشش کی اور کہا کہ شاید وہ اس سے پوچھ کچھ کے لیے اسے ساتھ لے کر گئے ہوں۔ بالکل اسی طرح جیسے وہ کئی بار پہلے کر چکے ہیں۔ مگر میں انھیں پر سکون کرنے میں ناکام رہا اور انھیں نے مجھے کہا کہ میں شہر چھوڑ جاؤں اس سے پہلے کہ وہ مجھے بھی پکڑ کر لے جائیں۔
میں نے ان کی بات کو سمجھا اور ایک بکھری ہوئی روح کے ساتھ پورے شہر کا چکر لگایا اور وہاں موجود دیگر ایسی روحوں کو چلتے ہوئے دیکھا۔ وہاں سے گذرنے والے ہر شخص کی آنکھیں اور الگ کہانی سنا رہی تھیں۔۔۔ ایک الگ جدوجہد۔
چند دن اور گزرے ۔ میں دکان کی شیلف پر خوراک کے پیکٹ رکھ رہا تھا کہ میرا ایک پرانا دوست مجھ سے ملنے کے لیے آیا۔
اس نے مجھ سے کہا کہ میں معمول کی طرح اس دن گھر نہ جاؤں۔ اس نے کہا کہ وہ نہیں چاہتا میں وہاں کچھ دیکھوں مگر ایسا کیا تھا یہ اس نے مجھے نہیں بتایا۔
آخر میں تجسس نے میرے لیے بہتری کی۔

،تصویر کا ذریعہ
اپنے دوست کے گھر کے سامنے میں نے ایک سرکٹی لاش دیکھی۔ اس کے سر پر لکھا تھا ’جاسوس، دولتِ اسلامیہ کے خلاف کام کرنے والا غدار۔‘
مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی ہے۔
میری ایسی حالت تھی کہ میں گھر نہیں جا پایا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میری امی مجھے ایسی حالت میں دیکھیں۔
وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ اس کی والدہ کے گھر کے سامنے اس کی سر بریدہ شدہ لاش کیسے چھوڑ کر جا سکتے ہیں؟ اس کے خاندان کے سامنے۔
میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں ان حالات میں مزید نہیں رہ سکتا۔ یہ دن بدن بدتر ہوتے جا رہے تھے۔
وہ ان لوگوں کے گھروں پر چھاپے مار رہے تھے جو کسی بھی طرح انقلاب سے منسلک رہے تھے۔ چاہے ایسا کئی ماہ یا سال پہلے ہوا تھا۔
میں ان لڑکوں میں سے ایک تھا۔ میں نے خود کو ہر اس شخص سے دور کر لیا جس کے ساتھ میں احتجاج کرنے کے لیے جایا کرتا تھا۔
میں نھیں چاہتا تھا کہ انھیں مجھ پر یا ان لوگوں پر شک ہو۔ مگر یہ کافی نہیں تھا۔ میں نے وہاں سے جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔







