رقہ ڈائری: ’ہم دوبارہ اسلام میں داخل ہوئے‘

ہم نے ایک ہفتے کے دورانیے پر مشتمل کورس کو ختم کیا اور سرکاری طور پر ہم دوبارہ اسلام میں داخل ہوئے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنہم نے ایک ہفتے کے دورانیے پر مشتمل کورس کو ختم کیا اور سرکاری طور پر ہم دوبارہ اسلام میں داخل ہوئے

ہم نے سمجھا تھا کہ ہم نے اپنا لازمی شرعی کورس پورا کر لیا ہے۔ مگر پھر ہم نے سنا کہ ہمیں رات کو مسجد میں اور کلاسز لینی ہوں گی۔ اسی وجہ سے رقہ میں بہت سے مالکان کو دکانیں بھی بند کرنا پڑیں۔

میرا دوست سبق پڑھنے نہیں آیا اور جب دولتِ اسلامیہ کے اہلکار نے پوچھا کہ وہ کہاں ہے تو ہم نے بتایا کہ وہ بیمار ہے۔ پھر ہم نے سنا کہ انھوں نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا لیکن وہ وہاں نہیں تھا۔

ہم نے ایک ہفتے کے دورانیے پر مشتمل کورس کو ختم کیا اور سرکاری طور پر ہم دوبارہ اسلام میں داخل ہوئے جیسے ہم دوبارہ مسلمان پیدا ہوئے ہوں۔

اگلے دن میں پراعتماد انداز میں قدم اٹھا رہا تھا۔

مجھے بتایا گیا کہ دکان پر دو آدمی آئے تھے اور انھوں نے میرے بارے میں پوچھا تھا کہ میں کہاں ہوں؟

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنمجھے بتایا گیا کہ دکان پر دو آدمی آئے تھے اور انھوں نے میرے بارے میں پوچھا تھا کہ میں کہاں ہوں؟

داعش سے منسلک ایک شحص نے مجھے روکا اور پوچھا کیا میں نے نماز فجر ادا کی ہے۔ ’ ہاں بالکل‘ لیکن اس نے سوچا کہ میں نے جھوٹ بولا ہے ۔ اس نے پوچھا کہ تم نے قرآن کا کونسا حصہ پڑھا تھا؟

لیکن میں پاس گزرتی ہوئی اس عورت کی وجہ سے بچ گیا جس نے اپنی آنکھوں کو ٹھیک طرح سے نہیں چھپایا ہوا تھا۔ وہ شخص اس عورت کو ڈرانے کے لیے اس کی جانب دوڑ پڑا اور میں جتنی تیزی سے ہو سکتا تھا اس دکان کی جانب بڑھنے لگا جہاں میں کام کرتا تھا۔

مگر جب میں دروازے سے آگے گیا تو حالات بدتر ہوتے چلے گئے۔ مجھے بتایا گیا کہ دکان پر دو آدمی آئے تھے اور انھوں نے میرے بارے میں پوچھا تھا کہ میں کہاں ہوں؟

میں گھبرا گیا اور میرے ہاتھ کانپنے لگے۔

میں نے پوچھا وہ کون تھے۔ تو مجھے بتایا گیا کہ یہ تو معلوم نہیں مگر ایک کے ہاتھ میں گن تھی۔

پہلی سوچ جو میرے دماغ میں آئی وہ یہ تھی کہ مجھے کوڑے مارے جائیں گے یا پھر داعش کے لیے پہلی صف میں لڑنے والوں میں شامل کیا جائے گا۔

پہلا خیال تو ختم ہوگیا لیکن میں جانتا تھا کہ وہ جلد ہی میرے پیچھے آئیں گے۔

میرا سارا دن یہی سوچتے ہوئے گزر گیا کہ وہ دو آدمی کون تھے اور ان کیا ہوا ہوگا۔ مگر کوئی بھی مجھے لینے نہیں آیا اور جیسے ہی کان بند ہوئی میں نے سیدھے گھر کی راہ لی۔

میری ماں نے مجھ سے پوچھا کہ تمھیں کیا ہوا ہے؟ تم کیوں اتنے زرد ہو رہے ہو؟ مائیں اس قسم کی باتیں جان جاتی ہیں۔

رات کھانے کے وقت مجھے بھوک نہیں تھی۔ میں یہی سوچتا رہا کہ اگر داعش والے مجھے لینے آ گئے تو میری ماں کا ردعمل کیا ہوگا۔

وہ مجھے سے پوچھتی رہیں کہ مجھے کیا پریشانی ہے لیکن میں نے انھیں کچھ بھی نہیں بتایا۔

میں ساری رات سو نہیں سکا تھا اور میرا خیال ہے کہ میں ماں بھی نہیں سو سکی تھیں۔

شریعہ کلاس نہ لینے کی وجہ سے میرے دوست کو سزائے موت سنائی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنشریعہ کلاس نہ لینے کی وجہ سے میرے دوست کو سزائے موت سنائی گئی تھی

میں صبح جلد ہی دکان پر چلا گیا میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مجھے میری ماں کے سامنے لے کر جائیں۔

ایک لمبے بازوؤں والا شخص آیا اور میں نے سوچا کہ بس یہی ہے لیکن اس نے مسکرا کر مجھے کہا کہ ڈرو نہیں۔

میرے دوست کے متعلق اچھی خبر نہیں تھی۔

شریعہ کلاس نہ لینے کی وجہ سے میرے دوست کو سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن شکر ہے کہ میرے سامنے کھڑے شخص نے داعش کے پکڑنے سے پہلے ہی میرے دوست کو خبردار کر دیا تھا کہ وہ بھاگ جائے۔

آج کا دن بہت خوفناک تھا۔

شام کو میں محمد کے پاس گیا۔ جو میرے والد کا ہم عمر تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اس مشکل صورتحال سے نمٹنے میں میری مدد کر سکتے ہیں۔

انھوں نے مجھے کہا کہ ’ اپنی زندگی حال کو پیش نظر رکھے بغیر گزارو۔ یہ سوچو کہ تم ایک رسی سے گزر رہے ہو جو دو پہاڑوں کے درمیان ہے۔ حال نیچے والا گراؤنڈ ہے۔ سیدھے آگے بڑھتے جاؤ، اور اپنی توجہ پہاڑ کو عبور کرنے پر مرکوز رکھو، نیچے کبھی مت دیکھنا۔ جب وہاں پہنچوں گا حال ختم ہو جائے گا۔‘