شامی جنگ میں کمی کے لیے امریکہ متحرک

حکومت کی شدید بمباری اور باغیوں کی شیلنگ میں گذشتہ ایک ہفتے میں 200 سے بھی زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنحکومت کی شدید بمباری اور باغیوں کی شیلنگ میں گذشتہ ایک ہفتے میں 200 سے بھی زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

امریکہ کا کہنا ہے کہ شام میں لڑائی کم کرنے اور ملک کے تمام حصوں میں مختلف گروہوں کے درمیان رنجشوں کو ختم کرنے کی غرض سے وہ ایک خاص پروگرام پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔

اس کے تحت پہلی ترجیح حلب شہر میں خون خرابے کو روکنا ہے جہاں حکومت کی زبردست بمباری اور باغیوں کی شیلنگ میں گذشتہ ایک ہفتے میں 200 سے بھی زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکہ چاہتا ہے کہ روس شام کی حکومت پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالے کہ وہ حلب پر اپنی بلا امتیاز بمباری روکے۔

لیکن روس کا اصرار ہے کہ حلب میں بمباری کا نشانہ دہشت گرد گروپ ہیں۔

حلب پر ہونے والی حالیہ بمباری میں زیادہ تر عام شہر نشانہ بنے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنحلب پر ہونے والی حالیہ بمباری میں زیادہ تر عام شہر نشانہ بنے ہیں

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے روس کے اس موقف اور شامی حکومت کے ان دعوں کو مسترد کیا ہے کہ وہ حلب میں جہادی تنظیم النصرہ کو نشانہ بنا رہے ہیں جو جنگ بندی کے عمل میں شامل نہیں ہے۔

جان کیری اتوار کو جنیوا میں شام کی صورت حال پر بات چیت کے لیے شام کے لیے اقوام متحدہ کے سفیر سٹیفین مستراں، اردون اور سعودی عرب کے وزارئے خارجہ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

انھوں نے حلب کی بگڑتی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خاص طور پر سنیچر کے روز تازہ بمباری ہونے پر جس میں چار مزید شہریوں کی ہلاکت کی خبر ہے اور بہت سے افراد زخمی ہوئے ہیں۔

امریکہ نے اس بگڑتی صورت حال کے لیے بشارالاسد کی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جو عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

شام کے مسئلے کے پر امن حل کے لیے دوسرے مرحلے کی بات چیت جنیوا میں 10 مئی سے شروع کی جائےگی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشام کے مسئلے کے پر امن حل کے لیے دوسرے مرحلے کی بات چیت جنیوا میں 10 مئی سے شروع کی جائےگی

امریکہ کا موقف ہے کہ اس طرح کے حملے براہ راست جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے جو دو ماہ قبل نافذ ہوئی تھی اور ان حملوں کو فوری طور روکا جانا چاہیے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے اور اس میں جلد ہی پیش رفت کی توقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس پر سفارتی دباؤ بنایا جا رہا ہے تاکہ شامی حکومت کی جانب ہونے والی خلاف ورزیوں، خاص طور پر حلب پر کی جانے والی شدید بمباری، کو روکا جا سکے۔

انھوں نے بتایا کہ امریکہ شام کے حامی ممالک کے ساتھ مل کر ملک بھر میں جاری رقابتوں کو کم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے تاکہ امداد ہر علاقے تک پہنچ سکے اور اس کا کوئي سیاسی حل نکل سکے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

گذشتہ فروری میں لڑائی روکنے کی غرض سے اپوزیشن اور اور بشار الاسد کی حکومت کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا لیکن حالیہ مہینوں میں جنگ بندی پر عمل مشکل سے ہو پایا ہے خاص طور پر حلب کے علاقے میں جہاں حکومت نے حالیہ دنوں میں زبردست بمباری کی ہے۔

شام کی سرکاری فوج کا کہنا ہے کہ حلب کے علاوہ دیگر تمام علاقوں میں جنگ بندی کے معاہدے پرعمل کیا جا رہا ہے۔

شام کے مسئلے کے پر امن حل کے لیے دوسرے مرحلے کی بات چیت جنیوا میں 10 مئی سے شروع کی جائےگی۔