امریکہ اور روس شام میں امن مذاکرت کو بچائیں: اقوام متحدہ

جنگ بندی کے باوجود حالیہ دنوں میں شام میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنگ بندی کے باوجود حالیہ دنوں میں شام میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام نے امریکہ اور روس پر زور دیا ہے کہ وہ امن مذاکرات کو بچانے کے لیے فوری طور پر ’انتہائی اعلیٰ سطح‘ پر مداخلت کریں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو امن عمل کی ناکامی کے حوالے سے بریفنگ کے بعد سٹیفن ڈی مستورا نے کہا کہ فروری میں ہونے والا معاہدہ ’بمشکل زندہ‘ ہے۔

* <link type="page"><caption> ’شام کے شہر داریا میں صورتحال ابتر‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/04/160427_syria_humanitarian_situation_daraya_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

* <link type="page"><caption> روس، شام میں نئی چڑھائی کو تیار ہے؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/04/160427_russia_syria_offensive_sq.shtml" platform="highweb"/></link>

خیال رہے کہ جنگ بندی کے باوجود حالیہ دنوں میں شام میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

بدھ کو حلب میں ایک ہسپتال اور اس کے قریب واقع رہائشی عمارت پر سرکاری فوج کی بمباری سے کم از کم 20 شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

وائٹ ہیلمٹ نامی سول ڈیفنس کے رضاکاروں نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں اور یہ باغیوں کے زیرانتظام شہر میں سے بچوں کا واحد طبی مرکز تھا۔

سٹیفن ڈے مستورا نے امریکہ اور روس سے شام میں امن عمل کامیاب بنانے کے لیے تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈی مستورا کا کہنا تھا کہ گذشتہ 48 گھنٹے میں ہر 25 منٹ بعد ایک شامی ہلاک اور ہر 13 منٹ میں ایک زخمی ہورہا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنڈی مستورا کا کہنا تھا کہ گذشتہ 48 گھنٹے میں ہر 25 منٹ بعد ایک شامی ہلاک اور ہر 13 منٹ میں ایک زخمی ہورہا ہے

ڈی مستورا کا کہنا تھا کہ فروری میں طے پانے والے ’جنگ بندی کے معاہدے‘ کو ‘مکمل تباہی‘ سے بچا لیا گیا ہے تاہم یہ ’کسی بھی وقت ڈھیر‘ ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ 48 گھنٹے میں ہر 25 منٹ بعد ایک شامی ہلاک اور ہر 13 منٹ میں ایک زخمی ہو رہا ہے۔

امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا کہنا تھا کہ فریقین کو اسی سطح پر آنا ہوگا جو فروری میں ہونے والے معاہدے کے فوری بعد عمل میں لائی گئی تھی۔

ان کی پریس بریفنگ کے بعد رواں سال فریقین کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور منعقد ہوا۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے ہائی نِگوسی ایشن کمیٹی (ایچ این سی) نامی حزب اختلاف کے گروپ نے مبینہ طور پر حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور محصور علاقوں تک امداد پہنچانے میں کمی کے خلاف احتجاجاً مذاکرات سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

حلب میں ایک ہسپتال اور اس کے قریب واقع رہائشی عمارت پر سرکاری فوج کی بمباری سے کم از کم 20 شہری ہلاک ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنحلب میں ایک ہسپتال اور اس کے قریب واقع رہائشی عمارت پر سرکاری فوج کی بمباری سے کم از کم 20 شہری ہلاک ہوئے ہیں

ڈی مستورا سے جب مذاکرات میں صدر بشارالاسد کی حکومت میں تبدیلی کے حوالے سے بات چیت کا سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ فریقین نے ’لوگوں کے نام نہیں لیے کہ کون کیا کر رہا ہے تاہم اس پر بات ہوئی کہ موجودہ حکومت کیسے تبدیل کی جا سکتی ہے۔‘

ڈی مستورا کے مطابق جولائی سے قبل مذاکرات کے مزید ایک یا دو دور ہوں گے۔

خیال رہے کہ شام میں سنہ 2011 سے جاری خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔