ادلب میں ’شامی فوج کی بمباری‘ سے 44 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ادلب صوبے میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں حکومتی فورسز کے فضائی حملوں میں کم سے کم 44 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ 37 افراد مراۃ النمان میں ہلاک ہوئے جبکہ سات افراد قریبی علاقے کافرانبل میں مارے گئے۔
اس مبصر گروپ کا مزید کہنا تھا کہ مرنے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ملک میں بڑھتا ہوا تشدد سات ہفتوں سے جاری جنگ بندی کے عارضی معاہدے کو ناکامی کے دہانے پر لے آیا ہے۔
انسانی حقوق کے شامی ادارے نے منگل کو کی جانے والی اس بمباری کو قتل عام قرار دیا ہے۔
شام میں شہری دفاع کے ایک رضاکار احمد شیخو نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ مراۃ النمان میں دوپہر کے وقت ایک سبزیوں کے بازار کو نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ اسے وقت دس کلو میٹر کے فاصلے پر کافرانبل میں بھی ایک بازار کو نشانہ بنایا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دس گاڑیوں میں لاشوں اور زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس سے قبل شامی حزبِ اختلاف کی مرکزی تنظیم نے کہا تھا وہ شامی حکومت کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد جینوا میں اقوامِ متحدہ کی قیادت میں جاری امن مذاکرات سے الگ ہو رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امن مذاکرات پہلے ہی متزلزل تھے اور حلب میں جاری لڑائی کی وجہ سے انھیں خطرہ لاحق تھا۔
ریاض حجاب کا کہنا تھا کہ ایسے میں جب لوگ مر رہے ہیں ان کی مذاکراتی کمیٹی بات چیت میں شامل نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل محض ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔
شامی حکومت کا الزام ہے کہ باغی فورسز معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔
روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف کا اصرار ہے امن مذاکرات رکے نہیں ہیں۔ ان کے بقول حکومت اور دیگر تنظیمیں ان مذاکرات میں شامل ہیں۔ روس شامی حکومت کا اتحادی ہے۔








