شام کا بحران: جہادی جنگجوؤں کا ادلب کے اہم ہوائی اڈے پر قبضہ


ہوائی اڈے کا قبضہ خطے میں حکومت کی ناکامیوں کا ایک تازہ ترین واقعہ ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن ہوائی اڈے کا قبضہ خطے میں حکومت کی ناکامیوں کا ایک تازہ ترین واقعہ ہے

شام کے سرکاری ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ القاعدہ سے منسلک شامی جنگجوؤں نے ایک شدید لڑائی کے بعد شمال مغربی شہر ادلب کے ایک اہم ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔

ابو الظہور کا ہوائی اڈہ تقریباً دو سال سے جنگجوؤں کے محاصرے میں تھا جنھوں نے تقریباً سارے صوبے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

خیال ہے کہ حملہ کرنے والے شدت پسند القاعدہ سے منسلک نصرہ فرنٹ سمیت اسلام پسند باغیوں کے ایک اتحاد سے تعلق رکھتے ہیں۔

گذشتہ مارچ کے آخر سے جنگجوؤں نے صوبے میں مقیم کئی شہروں پر قبضہ کیا ہے جن میں ادلب اور جسر الشغور شامل ہیں۔

گذشتہ اگست سے شدت پسندوں نے ہوائی اڈے کے داخلے اور قریبی علاقوں پر خودکش حملوں کے ذریعے قبضہ کر لیا تھا۔

شام کے سرکاری ٹی وی چینل کی رپورٹ نے تسلیم کیا تھا کہ سرکاری فوج ’اپنی پوزیشن چھوڑ کر کسی اور جگہ منتقل ہوگئی تھی۔‘

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم شامی آبزرویٹری کے مطابق ہوائی اڈے پر قبضے کے بعد ادلب کے صوبے سے شامی فوج باہر نکال دی گئی ہے۔

شام میں سرگرم کارکنوں نے کہا ہے کہ ادلب کے دو شیعہ گاؤں میں مقامی حکومت کی حامی ملیشیا ابھی شامل تو ہے لیکن فوج اب مکمل طور پر نکل گئی ہے۔

ہوائی اڈے کا قبضہ خطے میں حکومت کی ناکامیوں کا ایک تازہ ترین واقعہ ہے۔

گذشتہ چار برسوں سے صدر بشار الاسد کی حکومت مختلف شدت پسند گروہوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے جس میں اب تک دو لاکھ 40 ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔