شامی حکومتی طیارہ شام میں گر کر تباہ، 12 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہFILE PHOTO
شامی انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایک حکومتی جنگی طیارہ اریحا کے قصبے کے قریب گر کر تباہ ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
برطانیہ میں قائم شامی انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے کارکنوں کے مطابق طیارہ علاقے پر بمباری کے مشن پر تھا کہ گر کر تباہ ہو گیا۔
مئی میں باغی افواج کے قبضے سے پہلے تک ادلب صوبے میں واقع اریحا کا قصبہ حکومت کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
اریحا کے قصبے کے باغی افواج کے ہاتھ آنے کے بعد ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع شام کا صوبہ ادلب اب تقریباً مکمل طور پر باغیوں کے کنٹرول میں ہے۔
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں درجنوں عام شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔
القاعدہ کے قریب سمجھے جانے والی النصرہ تنظیم کے جنگجوؤں نے اس طیارے کو گرانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ حادثہ خراب موسم اور شدید دھند کے باعث پیش آیا۔
النصرہ 13 اسلام پسند تنظیموں سے میں سے ایک ہے جو شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
رواں سال جنوری میں بھی ایک حکومتی طیارہ ادلب میں گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں 35 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مارچ سنہ 2011 میں شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت شروع ہونے کے بعد سے شام کی خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔







