شام: مبینہ روسی فضائی کارروائی میں 43 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
شام کے شہر ادلب کے رہائشیوں اور سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر روس کی جانب سے کی جانے والی فضائی کارروائی میں کم از کم 43 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق دکانوں، مکان اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ شہری دفاع کے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ ملبے سے ابھی بھی لاشیں نکالی جارہی ہیں۔
<link type="page"><caption> ادلب شہر پر باغیوں کا قبضہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/03/150328_idlib_syria_islamist_ra" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’ایک تہائی شامی باغیوں اور دولتِ اسلامیہ کا نظریہ ایک‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151220_syria_rebel_is_tk" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> شام کا بحران: جہادی جنگجوؤں کا ادلب کے اہم ہوائی اڈے پر قبضہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150909_syria_rebels_idlib_ak" platform="highweb"/></link>
روس نے علاقے میں فضائی کارروائی کی تصدیق نہیں کی ہے۔
خیال رہے کہ روس رواں برس ستمبر سے شام میں فضائی کارروائی کر رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ صرف دولتِ اسلامیہ اور دیگر شدت پسند گروہوں کو نشانہ بناتا ہے۔
دوسری جانب شامی حزبِ مخالف روس پر مغربی طاقتوں کے حمایت یافتہ اعتدال پسند گروہوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتی آئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
علاقے میں موجود حکومت مخالف کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں 170 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ دمشق اور حلب کو ملانے والی اہم شاہراہ کے قریب واقع شہر ادلب پر سال کے اوائل میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف برسرپیکار اسلامی گروہوں نے قبضہ کر لیا تھا۔
ادلب صدر بشار الاسد کی حمایت کےگڑھ صوبہ لتاکیا کے قریب واقع ہے۔
شام میں چار سال قبل شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک اور ایک کروڑ سے زیادہ شہری پناہ کے لیے ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔
حالیہ عرصے میں یورپ آنے والے پناہ گزینوں میں بھی بڑی تعداد کا تعلق شام سے ہے۔







