شام میں اس سے کہیں زیادہ فوجی صلاحیت رکھتے ہیں: صدر پوتن

روس لاذقیہ صوبے میں اپنے بیس کیمپ سے شامی باغیوں کے خلاف فضائی حملے کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنروس لاذقیہ صوبے میں اپنے بیس کیمپ سے شامی باغیوں کے خلاف فضائی حملے کر رہا ہے

روس کے صدر ولادی میر پوتن کا کہنا ہے کہ روس نے شام میں اب تک فوجی آپریشن کے دوران جن چیزوں کا استعمال کیا ہے ’وہ اس سے کہیں زیادہ کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘

ولادی میر پوتن کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس کئی دوسری چیزیں بھی ہیں اور ضرورت پڑنے پر ان کا استمعال بھی کیا جا سکتا ہے۔‘

روسی صدر نے یہ بات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اس جنگ زدہ ملک کے لیے امن منصوبے کی توثیق کے ایک دن بعد کہی ہے۔

شام میں جاری جنگ کو پانچ سال ہونے والے ہیں اور اس دوران دو لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اتفاق رائے سے منظور ہونے والی قرار داد میں باقاعدہ مذاکرات کے وقت اور آئندہ چھ کے دوران اتحادی حکومت قائم کرنے کا کہا گیا ہے۔

تاہم سلامتی کونسل کی اس قرارداد میں شام کے مستقبل میں بشارالاسد کے کردار پر کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کے حوالے سے کوئی متفقہ رائے سامنے آئی ہے۔

مغربی ممالک شامی صدر سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر چکے ہیں جبکہ روس اور چین سمجھتے ہیں کہ شام امن مذاکرات کے آغاز کے لیے یہ پیشگی شرط ضروری نہیں کہ بشارالاسد اپنا عہدہ چھوڑیں۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعے کو نیویارک میں منعقدہ اجلاس میں متفقہ طور پر شام میں قیامِ امن کے اس نقشۂ راہ کی توثیق کر دی ہے جس میں شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان مذاکرات اور فائربندی شامل ہے۔

امن منصوبے کے تحت 18 ماہ میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی انتخابات کروائے جانے کے لیے وقت کا مقرر کیا جائے گا اور شام عوام کو اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا جائے گا۔

اس منصوبے سب سے بڑا اختلاف یہ ہے کہ کس گروپ کو دہشت گرد قرار دیا جائے اور مذاکرات میں شامل نہ کیا جائے۔ اردن کو ایسے گروپوں کی فہرست تیار کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔