روس، شام میں نئی چڑھائی کو تیار ہے؟

- مصنف, جوناتھن مارکس
- عہدہ, نامہ نگار سفارتی امور، بی بی سی
حالات یہی بتا رہے ہیں کہ شام میں خانہ جنگی روکنے کا جزوی معاہدہ اور امن مذاکرات ناکامی کی جانب بڑھ رہے ہیں اور روس اور اس کے شامی اتحادیوں نے حلب اور اس کے گردو نواح میں ایک نئے حملے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
پچھلے ہی ہفتے امریکی وزارت دفاع کے سینئیر اہلکاروں کا بھی یہی کہنا تھا کہ شامی حکومت کے وفادار دستے ’حلب پر چڑھائی کے لیے اس کے ارد گرد جمع ہو رہے ہیں۔‘
پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ حلب بنیادی طور پر النصرہ فرنٹ کے ہاتھ میں ہے، لیکن چونکہ النصرہ فرنٹ امن معاہدے میں شامل نہیں ہے، اس لیے یہ کہنا بھی غلط ہو گا کہ وہ لوگ معاہدے کی روگردانی کر رہے ہیں۔ اس لیے حلب کی صورتحال خاصی پیچیدہ ہے، لیکن ہم صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔‘
اس حوالے سے ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں صورتحال اس سے مختلف ہے جو روس بتا رہا ہے۔
جب روس نے کہا تھا کہ وہ شام سے ’فوجیں نکالنے‘ جا رہا ہے تو اس سے یہی اشارہ ملا تھا کہ وہ مطمئن ہے کہ اس نے شامی حکومت کے ہاتھ مضوط کر کے آدھا کام کر لیا ہے اور وہ اب اس جنگ سے ہاتھ کھینچ رہا ہے۔ اس کے بعد ہی بشارالاسد کی حکومت مذاکرات کے لیے رضامند ہوئی تھی اور شام میں قیام امن کی نئی سفارتی کوششوں کے لیے زمین ہموار ہوئی تھی۔
امریکہ کئی ماہ سے شام میں روسی فضائیہ کی کارروائیوں پر تنقید کرتا چلا آیا ہے کہ ان کارروائیوں میں دولتِ اسلامیہ کی بجائے ان طاقتوں کو نشانہ بنایا گیا جنہیں مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔
نعرہ بازی اور حقیقت
روس کہتا ہے کہ اس کی فضائیہ کی زیادہ تر کارروائیوں کا نشانہ دولت اسلامیہ اور النصرہ فرنٹ کے ’دہشتگرد‘ ہیں۔

یہ دعویٰ اس بات کی علامت ہے کہ روس کی نعرہ بازی اور زمینی حقائق کے درمیان کتنی بڑی خلیج ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مثلاً سینیئر امریکی تـجزیہ کار مائیکل کوفمین کہتے ہیں کہ روس کی جانب سے ’انخلا‘ کے اعلان سے ایک ہفتہ پہلے روسی فضائیہ نے اپنا رخ تبدیل کیا اور پیلمائرہ کے گرد و نواح میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے جنگجوؤں کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا اور ’عوام کی نظر میں شامی حکومت اور روسی فضائیہ کی عزت افزائی‘ میں مدد دی۔
روس کی اس کارروائی کے بعد ہی وہ فضا بنی جس میں روس نے جزوی انخلاء کی پیشکش کی اور روسی فضائی کارروائیوں کا مرکزی ہدف دولت اسلامیہ کے جنگجو بن گئے۔ روسی فضائیہ کی ان کارروائیوں کی تصدیق خود امریکی اہلکاروں نے بھی کی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انخلا کے اعلان کے بعد شام میں روسی فضائیہ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے۔
اس کی تصدیق مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والی تصاویر سے بھی ہوتی ہے۔
تاہم روسی فوجوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اب بھی شام میں موجود ہے۔ ان میں 20 فوجی طیارے بھی شامل ہیں جن میں سے تقریباً ایک درجن طیارے ایس یو-24 ایم قسم کے لڑاکا طیارے ہیں جبکہ کچھ ایس یو-30 ایم اور ایس یو-35 قسم کے طیارے۔
اس کے علاوہ شام میں روس کے زمینی ہتھیاروں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے، جن میں بہت اچھی قسم کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہیں۔
اسی لیے تـجزیہ کار مائیکل کوفمین یہ کہنے میں حق بجانب دکھائی دیتے ہیں کہ شام میں روس کے مزید جنگی ہیلی کاپٹروں کی آمد کا مطلب یہی ہے کہ ’شام میں روس کی فوجی موجودگی اب کئی فوجی فضائی اّڈوں تک پھیل چکی ہے۔‘
حالیہ عرصے میں امریکی اور دیگر مغربی ذرائع نے بھی تصویری شواہد فراہم کیے ہیں جن میں روسی توپ خانے کے کچھ دستوں کو حلب کی جانب بڑھتے دکھایا گیا ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر جو شامی فوجیں حلب کے گر و نواح میں جمع ہو رہی ہیں ان میں حزب اللہ کے علاوہ روسی فوج کے خصوصی دستے بھی شامل ہیں۔
لگتا یہی ہے کہ تمام لوگوں کی نگاہیں حلب پر جمی ہوئی ہیں۔
لیکن اگر روس نے شام میں اپنی فوجوں کا گیئر تبدیل کیا ہے تو یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ شام کے حوالے سے امریکیوں نے بھی اپنی حمکت عملی تبدیل کر لی ہے۔
صدر براک اوباما کی جانب سے دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی طاقت میں دوگنا اضافے اور شام میں بر سرِ پیکار کُرد اور عرب جنگجوؤں کی تربیت کے لیے سپیشل فورسز کے مزید 250 اہلکاروں کی تعیناتی کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ بھی شام میں اپنے گیئر تبدیل کر رہا ہے۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ شام میں جاری مختلف جنگوں کے جلد خاتمے کے امکانات کم ہی ہیں۔







