’فوج بھیج کر بشارالاسد کا تختہ الٹنا غلط ہوگا‘

امریکی صدر اوباما برطانیہ کے تین روزہ دورے پر ہیں
،تصویر کا کیپشنامریکی صدر اوباما برطانیہ کے تین روزہ دورے پر ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے شام میں زمینی افواج کی تعیناتی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف فوجی کارروائی سے ملک کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے (بشار ال) اسد کی حکومت ختم کرنے کے لیے زمینی افواج کا روانہ کیا جانا بڑی غلطی ہوگي۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے آخری نو مہینوں کے دور صدرات میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا قلع قمع نہیں ہو سکے گا۔

تاہم انھوں نے کہا: ’ہم لوگ رفتہ رفتہ ایسے ماحول کو کم کرتے جائيں گے جس میں وہ سرگرم ہیں۔‘

تین دن کے برطانوی دورے میں انھوں نے کہا کہ شام کا مسئلہ ’دل سوز اور انتہائی پیچیدہ ہے۔‘

صدر اوباما نے شام کے حالات کو دلدوز قرار دیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدر اوباما نے شام کے حالات کو دلدوز قرار دیا

انھوں نے کہا: ’میرے خیال میں اس کا کوئی آسان حل نہیں ہے۔شام کے طویل مسئلے کا واحد حل فوج نہیں ہے اور ہماری جانب سے زمینی فوج کی تعیناتی تو بالکل نہیں ہے اور نہ ہم یہ کرنے جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کی قیادت والے اتحاد کی جانب سے دولت اسلامیہ کے خلاف رقہ جیسی جگہوں پر حملے جاری رہیں گے اور ملک کے ان حصوں میں انھیں محدود کر دیا جائے گا اور ان حصوں سے رابطے منقطع کر دیے جائیں گے جہاں سے وہ یورپ میں غیر ملکی جنگجو بھیجتے ہیں۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی برادری کو روس، ایران اور معتدل حزب اختلاف سمیت تمام فریقین پر دباؤ ڈالتے رہنا ہے کہ ساتھ مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کریں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ مشکل امر ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ فضائی حملے جاری رہیں گے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنانھوں نے کہا کہ فضائی حملے جاری رہیں گے

انھوں نے ایسے ممالک کی تنقید کی جن کی پارلیمان نے شام میں کی جانے والی کارروائی کی توثیق نہیں کی ہے اور پھر یہ بھی چاہتے ہیں کہ امریکہ کچھ کرے۔

انھوں نے کہا: ’آپ دونوں طرف سے سرخرو نہیں ہو سکتے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’شام کا مسئلہ قومی حدود اور مفادات سے بالاتر ہے اور اس کا حل بھی ملکی اور قومی حدود سے بلند ہے۔‘