حلب کی صورتحال ’تباہ کن‘ ہو چکی ہے: اقوام متحدہ

،تصویر کا ذریعہAFP
اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے رابطہ کار ژاں ایگلینڈ نے کہا ہے کہ شام کے شہر حلب میں گذشتہ دو دن میں صورتحال انتہائی تباہ کن ہو چکی ہے اور حکومت اور ’غیر جہادی‘ جنگجوؤں کے مابین 27 فرروی سے جاری جنگ بندی اب برائے نام ہی رہ چکی ہے۔
اقوام متحدہ کے اہلکار کا بیان حلب میں ایک ہسپتال پر ہونے والے ایک فضائی حملےمیں 27 افراد کی ہلاکت کے بعد آیا ہے۔
حلب میں عالمی امدادی تنظیم میدساں ساں فرنتیئر (ایم ایس ایف) کے ایک ہسپتال پر ہونے والے ایک فضائی حملے میں کم سے کم27 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب سے شامی حکومت نے کہا ہے کہ 150 امریکی فوجی شامی کردوں کے زیر اثر شہر رمیلن پہنچے ہیں۔ شام نے امریکی فوجیوں کی شام میں آمد کو غیرقانونی مداخلت قرار دیا ہے.
امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ انھوں نے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف برسرِ پیکارگروہوں کی مدد کے لیے 250 امریکی فوجیوں کو شام میں تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے رابطہ کار ژاں ایگلینڈ نے کہا کہ شام میں انسانی امداد میں شریک کارکنوں پر بمباری ہو رہی ہے اور اگلے چند دن شام میں لاکھوں لوگوں کو مہیا کی جانے والی انسانی امداد کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
شام میں جاری حالیہ تشدد کے بعد اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام فروری میں ہونے والا جنگ بندی کا معاہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔
شام کے بارے میں اقوام متحدہ کے ایلچی سٹیفن ڈی مستورا نےخبردار کیا ہے کہ حکومتی افواج اور ’غیر جہادی‘ جنگجوؤں کے مابین 27 فرروی سے جاری جنگ بندی اب برائے نام ہی رہ گئی ہے۔
ژاں ایگلینڈ نے کہا ہے کہ انھیں بتایا گیا ہے کہ پچھلے دو دنوں میں حلب شہر میں صورتحال انتہائی بگڑ چکی ہے۔
انھوں نے کہا کہ انسانی امداد اور فلاحی صحت سے منسلک کارکن بمباری میں مارے جار رہے ہیں اور اس سے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
عالمی تنظیم کے مطابق اس کے زیرِ انتظام چلنے والے القدس ہسپتال میں ہونے والی ہلاکتوں میں حلب شہر کے ایک ماہر امراض بچگان بھی شامل ہے۔
حلب کے مقامی ذرائع نے اس حملے کا الزام شامی حکومت یا روسی جنگی طیاروں پر عائد کیا ہے تاہم اس بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام نے بدھ کو امریکہ اور روس دونوں پر زور دیا تھا کہ وہ امن مذاکرات کو بچانے کے لیے فوری طور پر ’انتہائی اعلیٰ سطح‘ پر مداخلت کریں۔
عالمی امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ القدس ہسپتال مقامی طور پر بہت مشہور تھا اور اس پر بدھ کو براہِ راست فضائی حملہ کیاگیا۔

ایم ایس ایف نے القدس ہسپتال کو فضائی حملے میں تباہ کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عام افراد کو صحت کی ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی تھیں۔
موقعے پر موجود ایک امدادی کارکن زہیر نے بی بی سی کو بتایا کہ القدس ہسپتال کی ایک عمارت کو بھی فضائی حملے میں نقصان پہنچا ہے۔
امدادی کارکن کے مطابق اس فضائی حملے میں دو روسی راکٹ استعمال کیے گئے۔
امدادی کارکن کا مزید کہنا تھا: ’القدس ہسپتال کے نزدیک ایک پانچ منزلہ عمارت گری ہے اور ہمیں معلوم نہیں ہے کہ عمارت کے ملبے کے نیچے آ کر کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘
شہری دفاع کے محکمے کا کہنا ہے کہ القدس ہسپتال کے نزدیک عمارتوں پر لگا تار چار فضائی حملے کیے گئے۔
سیرین آبزویٹری گروپ کے سربراہ رامی عبدالرحمان کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک ماہر امراض بچگان شامل ہیں جن کا نام وسیم محاذ ہے۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی سانا نے اس حملے کی کوئی خبر نہیں دی تاہم اس کا کہنا ہے کہ باغیوں کی شیلنگ سے حکومت کے زیرِ انتظام علاقوں میں کم سے کم چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سانا کے مطابق جمعرات کو ہونے والی شیلنگ میں کم سے کم چار افراد زخمی ہوئے۔







