شام میں جزوی جنگ بندی کا آغاز

،تصویر کا ذریعہReuters
شام کے شہر حلب کے علاوہ ملک کے بیشتر حصوں میں ’ امن کی حکومت‘ کہی جانے والی جزوی جنگ بندی کا آغاز ہو گیا ہے لیکن گذشتہ روز ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 26 افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔
شام کی فوج کی جانب سے جزوی جنگ بندی پر عمل کا اعلان جمعے کی نصف شب کے ایک گھنٹے کے بعد دو علاقوں میں عمل میں آیا۔
اعلان کے مطابق یہ جزوی جنگ بندی شام کے دارالحکومت دمشق اور مضافاتی علاقے غوطہ میں 24 گھنٹے تک جاری رہے گی۔
شامی فوج کے مطابق صوبہ لاذقیہ کے شمالی علاقے میں بھی 72 گھنٹے تک جنگ بندی رہے گی۔
شامی فوج کی جانب سے لڑائی میں عارضی جنگ بندی کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومتی اہلکاروں کے مطابق باغیوں کی جانب سے حلب میں حکومت کے زیر کنٹرول مغربی علاقے میں واقع مسجد پر اس وقت گولے داغے گئے جب لوگ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسجد سے نکل رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
باغیوں کے اس راکٹ حملے میں اطلاعات کے مطابق 15 نمازی مارے گئے۔
اہلکاروں کے مطابق باغیوں نے باب الفراج میں قائم ملا خان مسجد کو نشانہ بنایا جس میں بہت ہلاکتیں ہوئیں۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق متعدد افراد شدید زخمی ہوئے اور ان کے بچنے کی امید کم ہے۔
دوسری جانب باغیوں کے قبضے والے مشرقی علاقے پر حکومت کی جانب سے ہونے والے فضائی حملے میں 11 افراد ہلاک جبکہ ایک طبی مرکز تباہ ہو گیا ہے۔ خیال رہے کہ ایک ہفتے میں حملے کی زد میں آنے والا یہ دوسرا طبی مرکز تھا۔
اطلاعات کے مطابق رہائشی علاقوں میں کروڈ بیرل بم پھینکے گئے ہیں اور امدادی کارکنوں کو ہلاکتوں سے نمٹنے میں دشواری ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار جم موئر کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی امریکہ اور روس کے درمیان اعلی سطحی رابطے کا نتیجہ ہے۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے دونوں ممالک پر اس کے لیے زور دیا تھا اور دیگر ممالک کو وہاں سے نکل جانے کے لیے کہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
شامی فوج کا کہنا ہے کہ نئے انتظامات میں ’امن کی حکومت‘ کا مقصد باغیوں یا ان کے مطابق دہشت گردوں کو شہریوں کو نشانہ بنانے کے بہانے سے محروم کرنا اور موجودہ جنگ بندی کو تقویت پہنچانا ہے۔
امریکہ کا خیال ہے کہ اس سے علاقے میں جاری جنگ میں کمی آئے گي۔
ایک اندازے کے مطابق حلب میں گذشتہ آٹھ دنوں سے جاری لڑائی کے نتیجے میں اب تک 230 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق حکومت کے طیاروں نے جمعرات کی شب باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر حملے کیے جبکہ میڈیسن سینس فرنٹیئرز نے جمعے کو کہا تھا اس حملے میں 50 افراد ہلاک ہوئے جن میں ہسپتال کے چھ عملے بھی شامل تھے۔
اس سے قبل بدھ کو ایک ہسپتال پر ہونے والے حملےکو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے دانستہ بتایا ہے۔







