برازیل میں صدر کے خلاف مواخذے کی سفارش

،تصویر کا ذریعہReuters
برازیل کی صدر جیلما روسیف کی ان کوششوں کو جھٹکا لگا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی روکنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
انھیں توقع تھی کہ ان کا مواخذہ کرنے کا جو مطالبہ ہو رہا تھا اسے روکنے میں وہ کامیاب ہو جائیں گی لیکن کانگریس کی کمیٹی نے ان کے خلاف ووٹ دیا ہے۔
65 ارکان پر مشتمل کانگریس کی کمیٹی میں 38 ارکان نے صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا جبکہ 27 ارکان نے مخالفت کی۔
واضح رہے کہ صدر روسیف کے استعفے کا مطالبہ کافی دنوں سے کیا جا رہا ہے۔ ان کے مخالف انھیں ملک میں اقتصادی بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔
اب 17 سے 18 اپریل کے درمیان ایوان زیریں میں ہونے والے آخری دور کی پولنگ پر سب کی نگاہیں مرکوز ہیں۔
اگر ایوان زیریں کے ارکان بھی صدر روسیف کے مواخذے کی حمایت کرتے ہیں تو یہ صدر کے لیے اور بڑا جھٹکا ہوگا۔
ادھر ملک کے عوام بھی پوری طرح سے اس بات پر منقسم ہے کہ صدر کا مواخذہ کیا جائے یا نہیں۔ پیر کی رات کو صدر کے ہزاروں حامیوں نے ان کی حمایت میں مظاہرہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAg. Brasil
اس سے قبل صدر کے مخالفین کے بھی احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں جو ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس دوران پولیس درالحکومت برازیلیا میں ہونے والے احتجاج مظاہروں سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کانگریس کمیٹی میں ہونے والی ووٹنگ علامتی ہے اور اس کا فیصلہ ایوان زیریں میں ہونے والی ووٹنگ پر منحصر ہے۔
سینیٹ میں مواخذے پر ووٹنگ ہوگی یا نہیں یہ فیصلہ کرنے کے لیے بحث کے حق میں 342 ارکان کا متفق ہونا ضروری ہے۔
اگر سینیٹ میں بھی اس کی حمایت میں ووٹ پڑتے ہیں تو صدر کو 180 دنوں کے لیے معطل کیا جا سکتا ہے۔
صدر کے مخالفین بدعنوانی کے معاملے میں ان کا مواخذہ چاہتے ہیں اور انھیں ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ابھی ایک سال کا عرصہ بھی نہیں گزرا ہے کہ روسیف دوسری بار ملک کی صدر منتخب ہوئي ہیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی کٹوتی کی پالیسی بھی عوام میں پسند کی نگاہ سے نہیں دیکھی جا رہی ہے جبکہ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
صدر روسیف کسی بھی طرح کی بدعنوانی کے الزامات سے انکار کرتی ہیں۔







