برازیل کے متوسط طبقے کے نئے مسائل

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
برازیل میں کئی برسوں سے معیشت میں بہتری کے نتیجے میں لاکھوں افراد غربت سے نکلے لیکن اب معاشی ترقی میں کمی کی وجہ سے متوسط طبقہ پھر سے ایک نئے خطرے سے دوچار ہے۔
برازیل کے شہر ساؤ پالو میں وسط فروری کی ایک دوپہر کلیڈی ڈی میلو اور ان کی بیٹیاں آنے والے مہمانوں کے لیے رات کا روایتی کھانے بنانے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔
53 سالہ کلیڈی نے چیز سوفل بنانے کے لیے گاجریں اور پیاز کاٹنی شروع کیں جبکہ ان کی بیٹیوں ڈینیل اور وینیسا نے چکن فرائی بنانے کی تیاری شروع کی۔
کلیڈی ڈی میلو کا خاندان ہمت اور نقل و حرکت کی کہانی سناتا ہے اور یہ گذشتہ دہائی میں برازیل کے درمیانے طبقے کے ایک بڑے سفر کی عکاسی کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
برازیل میں پانچ کروڑ کی آبادی کے متوسط طبقے کو اب بھی کمزور معیشت، بڑھتی مہنگائی اور قرضوں سے خطرہ لاحق ہے۔
کلیڈی ڈی میلو سنہ 1985 میں 17 سال کی عمر میں اس وقت ساؤ پالو آئیں جب ان کے والدین نے انھیں گھر سے نکال دیا۔
ان کے پاس پیسے نہیں تھے جس کی وجہ سے انھوں نے اپنی بیٹی ڈینیل کو اپنی بہن کے گھر چھوڑ دیا۔
کلیڈی ڈی میلو نے ساؤ پالو میں نوکرانی اور کیٹرر کے طور پر کام کرنا شروع کیا تاہم ان کے اب پانچ بچے ہیں اور انھوں نے گذشتہ ایک دہائی کے دوران اپنے گھر کا قرض بھی ادا کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے ’یہ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھی جب میں نے اپنے گھر کا قرض ادا کر دیا اور اس کے لیے میں سے سب کچھ کیا۔‘
کلیڈی کی سخت محنت کی وجہ سے ان کے بچوں کو وہ تمام مواقع ملے جو ان کی ماں کو کبھی حاصل نہیں ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کلیڈی کی بیٹی ڈینیل ایک خاتونِ خانہ ہیں اور وہ اپنے بچے کو ایک پرائیوٹ سکول میں پڑھنے کے لیے بھیجتی ہیں۔
کلیڈی کی دوسری بیٹی 26 سالہ ایلورینا ساؤ پالو کی ایک بوتیک میں کام کرتی ہیں اور وہ میک اپ آرٹسٹ بننے کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
کلیڈی کی بیٹی وینیسا ڈینٹل سکول میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں جبکہ ان کے 18 سالہ بیٹے لوکاس انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
کلیڈی کی چوتھی بیٹی کا اپنے خاندان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اگرچہ برازیل میں غربت کے خاتمے کے لیے متعدد پروگرام جاری ہیں تاہم کلیڈی کا کہنا ہے کہ وہ غربت سے صرف اور صرف اپنی کوششوں سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں۔
کلیڈی کے ہنستے ہوئے بتایا ’میں خود حکومت ہوں، میرے پانچ بچے ہیں تاہم برازیل کی حکومت نے میری کوئی مدد نہیں کی جس کے بعد مجھے اپنے بچوں کی ذمہ داری خود سنبھالنی پڑی اور میں نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔‘
سنہ 2000 کے اوائل میں برازیل نے متعدد اشیا جن میں خام لوہا، سویا بین اور گائے کا گوشت شامل ہے کو برآمد کرنا شروع کیا۔
بین الاقوامی فنانس کارپوریشن کے ہیکٹر گومز کے مطابق برازیل کی ان اشیا کے منافع کے باعث ایک نیا دور شروع ہوا اور وہاں نوکریوں کے مواقع پیدا ہوئے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے بعد حکومت نے پہلی بار بینکوں کو صارفین کے لیے پہلی بار آسان شرائط پر قرض فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
آرگنائزیشن فار اکنامک کارپوریشن اینڈ ڈویلپمنٹ کے مطابق برازیل میں کی جانے والی ان مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں سنہ 2003 میں تقربیاً پانچ کروڑ افراد متوسط افراد نے فائدہ اٹھایا۔
تاہم برازیل کی معیشت پر اب سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں، کمزور معیشت اور کساد بازاری کی وجہ سے متوسط طبقے کے لیے اب اچھے دن نہیں رہے۔
برازیل کے متعدد خاندانوں نے گذشتہ دہائی کے دوران ادھار پر خریداری کی۔
بین الاقوامی فنانس کارپوریشن کے ہیکٹر گومز کے مطابق برازیل کے عام خاندان کو اب صرف قرض کی ادائیگی کے لیے اپنی آمدنی کا پانچواں حصہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق قرض کی ادائیگی کے علاوہ گذشتہ ایک دہائی کے اقتصادی اور سماجی ترقی کے پروگراموں کی کمزوری نے ماہرین کو فکر مند کر دیا ہے۔







