’کرنسی کی جنگ تجارتی جنگ بن رہی ہے‘

چین کی ’ کم قدر والی کرنسی‘ بھی عالمی تجارت کا حلیہ بگاڑ رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنچین کی ’ کم قدر والی کرنسی‘ بھی عالمی تجارت کا حلیہ بگاڑ رہی ہے۔

برازیل نے خبردار کیا ہے کہ چین، امریکہ اور دیگر ممالک کی جانب سے کرنسی کی قدر میں مصنوعی ردوبدل کی وجہ سے دنیا ایک تجارتی جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں برازیلی وزیرِ خزانہ گیڈو منتیگا کا کہنا تھا کہ برازیل اپنی کرنسی کی قدر میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ برازیلی حکومت اس معاملے کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور جی ٹوئنٹی کے اجلاس میں اٹھائے گی۔

گیڈو منتیگا کا کہنا تھا کہ ’یہ کرنسی کی جنگ تجارتی جنگ بنتی جا رہی ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ کی لچکدار مانیٹری پالیسی کی وجہ سے برازیل اور امریکہ کی تجارت جس سے کبھی سالانہ پندرہ ارب ڈالر منافع ہوتا تھا اب برازیل کو اس سے چھ ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پیداوار سے بھی کہیں زیادہ کرنسی کی شرحِ تبادلہ اقتصادی پالیسی کا مرکزی محرک ہے‘۔ خیال رہے کہ گزشتہ دو برس میں برازیلی کرنسی کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں انتالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

برازیلی وزیرِ خزانہ نے یہ بھی کہا کہ چین کی ’ کم قدر والی کرنسی‘ بھی عالمی تجارت کا حلیہ بگاڑ رہی ہے۔

آئی ایم ایف نے بھی گزشتہ برس اکتوبر میں خبردار کیا تھا کہ کچھ ممالک اپنی کرنسی کو بطور ’ہتھیار‘ استعمال کر رہے ہیں اور نومبر میں جی ٹوئنٹی کے اجلاس میں بھی کرنسی کی قدر میں مصنوعی ردوبدل کا معاملہ زیرِ بحث آیا تھا۔