برازیل میں ہزاروں مظاہرین کا حکومت مخالف مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہGetty
برازیل کے طول و عرض میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
مظاہرین صدر جیلما روسیف کے خلاف بدعنوانی کے معاملے میں مواخذہ چاہتے ہیں اور انھیں ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
حالیہ پولز میں صدر روسیف کے حامیوں کی تعداد میں بے انتہا کمی دیکھی گئی ہے۔
بہت سے ووٹروں نے ان پر بدعنوانی کو ختم کرنے میں ناکامی کا الزام لگایا اور انھیں گذشتہ 25 سال کے دوران معیشت کی خستہ ترین حالت کا ذمہ دار قرار دیا۔
مظاہرین نے برازیل کے سب سے بڑے شہر ریو کے کوپاکبانا ساحل پر مظاہرہ کیا اس کے علاوہ انھوں نے دارالحکومت برازیلیا میں کانگریس کے باہر بھی مظاہرہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہna
احتجاج میں شامل زیادہ تر لوگوں نے قومی پرچم والے سبز اور پیلے رنگ کے کپڑے پہن رکھے جو کہ ان کی فٹبال کی ٹیم کی جرسی ہے۔
وہ قومی ترانہ گا رہے تھے اور انھوں نے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے جس پر ’جیلما آؤٹ‘ یعنی جیلما باہر جاؤ لکھا ہوا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرے میں ایک لاکھ 37 ہزار افراد نے شرکت کی جبکہ ہزاروں مظاہرین نے دوسرے شہر ساؤپاولو میں بھی مظاہرہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قومی دن پر ہونے والا یہ مظاہرہ صدر روسیف اور ان کی بائیں بازو کی جماعت ورکرز پارٹی کے خلاف اس سال کا تیسرا بڑا مظاہرہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
برازیلیا کے مظاہرے میں شامل ایک ریٹائرڈ انجینیئر نے کہا: ’ہم تبدیلی چاہتے ہیں اور اگر لوگ سڑکوں پر نہیں نکلیں گے تو یہ ناممکن ہے۔‘
خیال رہے کہ ابھی ایک سال کا عرصہ بھی نہیں گزرا ہے کہ روسیف دوسری بار ملک کی صدر منتخب ہوئي ہیں۔
ان کے حامیوں نے بھی مظاہرے کیے ہیں اور انھوں نے ان کی برطرفی کے مطالبے کو تختہ پلٹنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
مظاہرین نے صدر پر سرکاری تیل کمپنی پیٹروبراس کے سکینڈل میں بدعنوانی کا الزام لگایا ہے کہ جس وقت صدر روسیف پیٹروبراس کی چیئرمین تھیں اس وقت رشوت ستانی ہوئی تھی۔
ایک جانچ کمیٹی نے انھیں ان الزامات سے بری کر دیا ہے اور وہ ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی کٹوتی کی پالیسی بھی عوام میں پسند کی نگاہ سے نہیں دیکھی جا رہی ہے جبکہ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔







