برازیل میں حکومت کی بدعنوانی کے خلاف احتجاج

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
برازیل میں ہزاروں افراد نے حکومت کی بدعنوانی کے خلاف اتوار کو ملک میں پرامن احتجاج کیا ہے۔
مظاہرین نے سرکاری آئل کمپنی پیٹروباس میں حکمران ورکرز پارٹی پر رشوت میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔
ادھر برازیل کی صدر ڈیلما روزیف نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
ڈیلما روزیف کو ملک کے اٹارنی جنرل کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں بے قصور پایا گیا ہے۔
برازیل میں حزبِ مخالف کا کہنا ہے کہ سرکاری آئل کمپنی میں سیاست دانوں نے مبینہ طور پر اس دوران زیادہ رشوت لی جب صدر ڈیلما روزیف اس کمپنی کی سربراہ تھیں۔
ملک کی صدر کو اس الزامات سے بری قرار دیے جانے کے باوجود متعدد مظاہرین کو یقین ہے کہ ڈیلما روزیف کو اس سکینڈل کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے تھا جبکہ چند افراد ان کے مواخذے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ برازیل میں اتوار کو ہونے والے مظاہروں میں 1,40,000 افراد نے حصہ لیا تاہم منتظمین نے اس کی تعداد کہیں زیادہ بتائی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مظاہرے میں شریک متعدد مظاہرین نے برازیل کی قومی فٹبال ٹیم والی پیلے رنگ کی شرٹس پہن رکھی تھیں اور وہ برازیلی جھنڈے لہرا رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دیگر مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت مخالف نعرے درج تھے۔
برازیل کے شہر ریو دی جینیورو میں بھی چند ہزا افراد نے احتجاج کیا۔
ریو دی جینیورو میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے شہر میں ہونے والے مظاہرے میں زیادہ تر متوسط طبقے کے افراد شامل تھے۔ ریو دی جینیورو کے علاوہ ساؤپالو میں بھی مظاہرے کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ برازیل کی ورکرز پارٹی جنوری سنہ 2013 سے اقتدار میں ہے۔
برازیل کی سپریم کورٹ نے گذشتہ ماہ بدعنوانی میں مبینہ طور پر ملوث 54 افراد کے خلاف تحقیقات کرنے کی منظوری دی تھی۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ پرائیوٹ کمپنیوں نے پیٹروباس کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے ان بدعنوان اہل کاروں کو مبینہ طور پر رشوت دی تھی تاہم یہ اہل کار ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔







