برازیل: مظاہرین سے نمٹنے کے لیے فوج تعینات

وزارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج کے ان شہروں میں رہنے کی مدت کا فیصلہ مقامی انتظامیہ کرئے گی
،تصویر کا کیپشنوزارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج کے ان شہروں میں رہنے کی مدت کا فیصلہ مقامی انتظامیہ کرئے گی

برازیل کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری احتجاج کو روکنے کے لیے فوج تعینات کی جائے گی۔

فوج کی ملک کے پانچ بڑے شہروں میں بھیجا جائے گا۔ ان شہروں میں ریو ڈی جنیورو، مناس غریس، بایا، سی آرا اور دارالحکومت برازیلہ ہیں۔

یہ وہ تمام شہر ہیں جہاں جاری کنفیڈریشنز فٹبال کپ کے میچ منعقد ہونا ہیں۔

یہ اعلان اُس وقت کیا گیا ہے جب ملک کے سب سے بڑے شہر ساؤ پالو میں منگل کے روز بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان تازہ چھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

برازیل کی وزارتِ انصاف کا کہنا تھا کہ ریکاف کنفیڈریشنز فٹبال کپ کا واحد میزبان شہر ہے جس نے فوجی تعنیاتی کا مطالبہ نہیں کیا۔

وزارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج کے ان شہروں میں رہنے کی مدت کا فیصلہ مقامی انتظامیہ کرئے گی۔

برازیل میں یہ مظاہرے اس ماہ آغاز میں شروع ہوئے تھے اور ان میں شامل افراد کا مطالبہ تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کیا گیا دس فیصد اضافہ واپس لیا جائے۔ تاہم اب یہ مظاہرے ایک ملک گیر احتجاج بن گئے ہیں اور مظاہرین بہتر تعلیم، سکولوں اور آمد و رفت کے نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ملک میں مظاہرین کی تعداد ڈھائی لاکھ بتائی جا رہی ہے۔ بہت سے مظاہرین نے فٹ بال کے عالمی کپ اور 2016 میں ریو میں ہونے والے اولمپک مقابلوں کے اخراجات پر اظہارِ تشویش کیا ہے۔

منگل کو تقریباً پچاس ہزار افراد شہر ساؤ پالو کے سٹی سنٹر تک مارچ کرنے کے لیے ساؤ پالو کیتھیڈرل کے سامنے جمع ہوئے۔ میئر فرنانڈو ہداد کے دفتر کے باہر مظاہرین اور پولیس کے درمیان چھڑپیں شروع ہوگئیں۔ اس موقعے پر پولیس کو میئر کے دفتر کی عمارت کے اندر پناہ لینا پڑی اور مظاہرین نے پتھراؤ کر کے عمارت کو نقصان پہنچایا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان چھڑپوں میں صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور مظاہرین نے شہر کے ایک اور حصے میں ایک پولیس سٹیشن کو نذرِ آتش بھی کر دیا۔

ملک کی صدر ڈلمہ روسف کا کہنا تھا کہ اُنہیں اس بات پر فخر ہے کہ اتنے شہری ملک میں بہتری کی کوشش کر رہے ہیں۔