برازیل: کئی شہروں میں مظاہرے جاری

برازیل کے سب سے بڑے شہر ساؤ پالو میں منگل کے روز بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان تازہ چھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

شہر میں مظاہرین کے چند نقاب پوش گروہوں نے دکانوں اور بینکوں کو نقصان پہنچایا اور ان گروہوں کی تشدد روکنے کی کوششیں کرنے والے دیگر مظاہرین کے ساتھ چھڑپیں بھی ہوئی۔

برازیل میں یہ مظاہرے اس ماہ آغاز میں شروع ہوئے تھے اور ان میں شامل افراد کا مطالبہ تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کیا گیا دس فیصد اضافہ واپس لیا جائے۔

تاہم اب یہ مظاہرے ایک ملک گیر احتجاج بن گئے ہیں اور مظاہرین بہتر تعلیم، سکولوں اور آمد و رفت کے نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

منگل کو تقریباً پچاس ہزار افراد شہر سٹی سنٹر تک مارچ کرنے کے لیے ساؤ پالو کیتھیڈرل کے سامنے جمع ہوئے۔ میئر فرنانڈو ہداد کے دفتر کے باہر مظاہرین اور پولیس کے درمیان چھڑپیں شروع ہوگئیں۔

اس موقعے پر پولیس کو میئر کے دفتر کی عمارت کے اندر پناہ لینا پڑی اور مظاہرین نے پتھراؤ کر کے عمارت کو نقصان پہنچایا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان چھڑپوں میں صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور مظاہرین نے شہر کے ایک اور حصے میں ایک پولیس سٹیشن کو نذرِ آتش بھی کر دیا۔

مقامی ٹی وی پر ایک نقاب پوش گروہ کو دفتر کے قریب میں لوٹ مار کرتے بھی دکھایا گیا۔

ملک کے دیگر شہروں ریو ڈی جنیرو اور مناس غریس میں بھی مظاہرے ہوئے۔

ادھر دوسری جانب برازیل کنفیڈریشنز فٹبال کپ کی میزبانی بھی کر رہا ہے جو کہ سنہ 2014 کے فٹ بال کے عالمی کپ کے مقابلے کی تیاری کا حصہ ہے۔

بہت سے مظاہرین نے فٹ بال کے عالمی کپ اور 2016 میں ریو میں ہونے والے اولمپک مقابلوں کے اخراجات پر اظہارِ تشویش کیا ہے۔

سنہ انیس سو بانوے سے اب تک ملک کے یہ سب سے بڑے مظاہرے ہیں۔ اُس وقت عوام صدر فرناڈو میلو کی برطرفی کے لیے سڑکوں پر آگئے تھے۔

پیر کی شب ساؤ پالو، ریو ڈی جنیرو سمیت تقریباً دس برازیلی شہروں میں دو لاکھ کے لگ بھگ افراد نے مظاہروں میں شرکت کی تھی۔

ملک کی صدر ڈلمہ روسف کا کہنا تھا کہ اُنہیں اس بات پر فخر ہے کہ اتنے شہری ملک میں بہتری کی کوشش کر رہے ہیں۔

پیر کے مظاہروں کے بعد اُن کا کہنا تھا کہ میری حکومت تبدیلی کے مطالبات غور سے سن رہی ہے۔ ’مظاہروں کا حجم ہماری جمہوریت کی مضبوطی کی گواہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اُن کی حکومت چار کڑور افراد کو متوسط طبقے میں لے آئی ہے تاہم ابھی مزید کام باقی ہے۔

بعد میں صدر میئر ہداد سے ملاقات کے لیے ساؤ پالو پہنچیں۔

میئر ہداد کہہ چکے ہیں کہ وہ کرایوں میں اضافے کو واپس لینے پر غور کر رہے ہیں۔

دیگر شہروں کی انتظامیہ نے پیر کے مظاہروں کے بعد پہلے ہی کرایوں میں کیے گئے اضافے منسوخ کر دیے ہیں۔