برازیل: مظاہرے جاری، صدر کا اصلاحات کا اعلان

برازیل میں ملک گیر مظاہروں کے پیش نظر صدر ڈیلما نے اپنا جاپان کا دورہ منسوخ کر دیا
،تصویر کا کیپشنبرازیل میں ملک گیر مظاہروں کے پیش نظر صدر ڈیلما نے اپنا جاپان کا دورہ منسوخ کر دیا

برازیل میں جاری مظاہروں کے صدِ باب کے لیے صدر ڈیلما روزیف نے نئی اصلاحات کی پیشکش کی ہے۔

ٹی وی پر نشر کیے جانے والے اپنے خطاب میں انھوں نے کہا ہے کہ وہ ایک ایسا منصوبہ بنا رہی ہیں جس سے بپلک ٹرانسپورٹ کو فائدہ پہنچے گا اور تیل سے آنے والی تمام آمدنی کو تعلیم کے شعبے میں صرف کیا جائے گا۔

مزید برآں انھوں نے کہا کہ ملک سے باہر کام کرنے والے ہزاروں ڈاکٹروں کو واپس بلایا جائے گا تاکہ قومی صحت کے شعبے میں بہتری آئے۔

اس سے قبل انھوں نے ملک گیر نوعیت کے مظاہروں کے پیش نظر کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلایا تھا۔

یاد رہے کہ صدر روزیف نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے اپنا جاپان کا دروہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔

لاکھوں افراد کے سڑکوں پر مظاہرے کرنے سے ملک میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سب سے زیادہ عدم اطمینان کی صورت حال بن گئی ہے۔

برازیل کی صدر نے مظاہروں کے آغاز میں یہ کہتے ہوئے مظاہرین کی تعریف کی تھی کہ انہیں فخر ہے کہ اتنے سارے لوگ ملک کی بہتری کے لیے لڑ رہے ہیں۔

اس کے بعد سے انھوں نے ان مظاہروں سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے۔

برازیل میں یہ مظاہرے دو ہفتے قبل ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کے خلاف شروع ہوئے تھے لیکن اب ان کا رخ ملک میں پھیلی بدعنوانی اور آئندہ سال ہونے والے فٹ بال کے عالمی کپ کے اخراجات کی جانب ہو گیا ہے۔

عوام نے مظاہرے بسوں کے کرایوں میں اضافے پر شروع کیے تھے
،تصویر کا کیپشنعوام نے مظاہرے بسوں کے کرایوں میں اضافے پر شروع کیے تھے

خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ تقریباً 100 شہروں میں 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے جمعرات کو ہونے والے ملک گیر مظاہروں میں حصہ لیا۔

جمعرات کی رات مظاہرین نے دارالحکومت برازیلیہ میں وزارت خارجہ کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم پولیس نے ربڑ کی گولیوں اور آنسو گيس کے گولوں کی مدد سے انہیں بھگا دیا۔

ادھر ریو دی جینیورو میں ماسک پہنے نوجوان مظاہرین اور فسادات کنٹرول کرنے والی پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 29 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

برازیل کے دیگر شہر سلواڈور، پورٹو الیگرے، کیمپیناس اور شمالی ساؤپالو میں بھی تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

مظاہرین بدعنوانی اور خراب عوامی سہولیات پر ناراض ہیں۔ اس کے ساتھ وہ آئندہ سال برازیل میں ہونے والے فٹ بال کے عالمی کپ کے زبردست اخراجات پر بھی ناراض ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو تعلیم اور صحت کے شعبے میں بھی پیسہ خرچ کرنا چاہیے۔

ان مظاہروں کے بعد ساؤپالو، ریو، ریسائف اور جاؤ پیسوا نے کرایوں کے اضافے کو واپس لے لیا ہے۔

خیال رہے کہ برازیل میں حالیہ مظاہرے سنہ 1992 میں ہونے والے مظاہروں کے بعد سب سے بڑے مظاہرے ہیں۔