سعودی عرب کے’فیصلے‘ پر تیل کی قیمتوں میں کمی

ایران اپنے پر عائد عالمی پابندیاں ختم ہونے کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی پیدوار بڑھانا چاہتا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنایران اپنے پر عائد عالمی پابندیاں ختم ہونے کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی پیدوار بڑھانا چاہتا ہے

سعودی عرب کی جانب سے تیل کی پیداوار منجمد نہ کرنے کا عندیہ دیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 40 ڈالر فی بیرل سے کم ہوگئی ہیں۔

سعودی عرب نے کہا کہ تھا کہ وہ اُس وقت تک تیل کی پیداوار میں کمی نہیں کرے گا جب تک خام تیل پیدا کرنے والے دوسرے ملک بھی پیدوار کم نہیں کرتے۔

یاد رہے کہ فروری میں سعودی عرب اور روس نے کہا تھا کہ وہ جنوری کی پیداواری سطح پر اپنی پیدوار منجمد کرنے کو تیار ہیں لیکن اس کے لیے تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک کو بھی ایسا ہی کرنا ہو گا۔

اس معاملے پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بیان کو ایران کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایران اپنے پر عائد عالمی پابندیاں ختم ہونے کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی پیدوار بڑھانا چاہتا ہے۔

بلوم برگ کو دیے گئے انٹرویو میں سعودی ولی عہد نے بڑے سرمایے والے پبلک انوسٹمینٹ فنڈ کے بارے میں بات کی۔ انھوں نے بتایا کہ فنڈ کی مالیت 20 کھرب ڈالر سے زائد ہو گی اور اس کا مقصد سعودی عرب کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدن پر انحصار کم کرنا ہے۔

انٹرویو کے دوارن شہزادہ محمد بن سلمان نے بتایا کہ فنڈ آئندہ سال سے شروع ہو سکتا ہے اور اسی منصوبے کے تحت سعودی آرمکو میں حکومتی حصص بھی فروخت کیے جائیں گے۔

تیل کی پیدوار میں کمی

عالمی منڈیوں میں تیل کی پیداوار کو کم کرنے یا موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے حوالے سے اپریل کے وسط میں دوحا میں اجلاس ہو رہا ہے لیکن اس میں ایران شریک نہیں ہے۔

سعودی ولی عہد نے بتایا کہ دو ہزار ارب ڈالرمالیت کا فنڈ بنانے کا مقصد سعودی عرب کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدن پر انحصار کم کرنا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسعودی ولی عہد نے بتایا کہ دو ہزار ارب ڈالرمالیت کا فنڈ بنانے کا مقصد سعودی عرب کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدن پر انحصار کم کرنا ہے

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ’اگر تمام ممالک پیدوار میں کمی کرنے رضا مند ہوں گے تو ہم بھی اُن کے ساتھ ہیں۔‘

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا ان ممالک میں ایران کو بھی شامل چاہیے تو انھوں نے کہا کہ ’بغیر کسی شک کے‘

عالمی منڈی میں ان دنوں خام تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں لیکن سعودی شہزادے کے بیان کے بعد خام تیل کی قیمت گراوٹ کا شکار ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمت میں73 سینٹس کی کمی کے بعد 39.60 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔

تجزیہ کار ٹامس ورگا کا کہنا ہے کہ ’تیل کی پیدوار کو منجمد کرنے کے بارے میں توقعات بہت زیادہ ہیں لیکن یہ جنوری کے پیدواری سطح پر تیل کی قیمت میں استحکام بہت مشکل ہے۔‘

جون سنہ 2014 میں 116 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچنے کے بعد خام تیل کی قیمت مسلسل کم ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل پیدوار مجموعی طلب کے مقابلے میں زیادہ ہے۔