’ایران سے تیل کی پیداوار میں کمی کا مطالبہ غیرمنطقی ہے‘

ایران نے حال ہی میں پابندیاں اٹھنے کے بعد تیل کی برآمد دوبارہ شروع کی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایران نے حال ہی میں پابندیاں اٹھنے کے بعد تیل کی برآمد دوبارہ شروع کی ہے

تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی ایک عالمی تنظیم (اوپیک) کے ایرانی ایلچی کا کہنا ہے کہ ایران کو تیل کی پیداوار منجمد کرنے کا مطالبہ ’غیرمنطقی‘ ہے۔

روس اور سعودی عرب پہلے ہی یہ معاہدہ تسلیم کر چکے ہیں۔

ایرانی اخبار شرغ نے مہدی اصالی کا یہ بیان شائع کیا ہے کہ ایران پابندیاں عائد ہونے کی پہلے کی سطح تک پہنچنے تک تیل کی پیداوار بڑھاتا رہے گا۔

بدھ کو وینزویلا کے تیل کے وزیر تہران میں ایران اور عراق کے ساتھ معاہدے کے لیے مذاکرات کریں گے۔

ایران نے حال ہی میں پابندیاں اٹھنے کے بعد تیل کی برآمد دوبارہ شروع کی ہے۔

بشمول وینزویلا اور قطر چار ممالک کی جانب سے 15 برسوں میں اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔

تیل کی قیمتیں سنہ 2014 میں 116 ڈالر فی بیرل کی بلندی پر پہنچنے کے بعد گری ہیں اور ان میں 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

تیل کی قمتیوں میں اس تیزی سے کمی کی وجہ رسد میں اضافہ، طلب میں کمی اور بین الاقوامی معاشی حالات ہیں۔

تاہم یہ منصوبہ تیل کے تاجروں کو قائل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

منگل کو برینٹ کروڈ کے بیرل کی قیمت 3.2 فی صد میں کمی اور اور اس سے قبل بدھ کو 1.3 فیصد کمی ہوئی تھی۔

ایف جی ای کے بین الاقوامی توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’پیداوار کو جنوری کی سطح پر منجمد کرنے کے اقدامات سے مجموعی طور پر اس سال کی طلب و رسد میں توازن میں بہت کم فرق پڑے گا اور یہ اس سال کے متعین کر دہ چھ لاکھ بیرل یومیہ سرپلس حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔‘

عراق کے تیل کی وزات پیداوار میں کمی کے حق میں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر دیگر ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا جائے تو وہ پیداوار کو منجمد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پابندیاں اٹھنے کے بعد اپنی تیل کی پیداوار بڑھانا چاہتا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپابندیاں اٹھنے کے بعد اپنی تیل کی پیداوار بڑھانا چاہتا ہے

تاہم ایران کے مہدی اصالی نے اخبار شرغ کو بتایا ہے کہ ’ایران سے تیل کی پیداوار منجمد کرنے کے کا کہنا غیرمنطقی ہے۔۔۔۔ جب ایران پر پابندیاں عائد تھیں، کچھ ممالک نے اپنی پیداوار بڑھائی اور وہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا سبب بنے۔ اب وہ ایران سے تعاون کی توقع کیسے کرسکتے ہیں؟‘

چیٹہم ہاؤس میں رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے تیل کی قیمتوں کے ماہر پال سٹیونز کا کہنا ہے کہ ’سنہ 2012 میں پابندیوں سے قبل ایران 44 لاکھ بیرل یومیہ پیدا کر رہا تھا۔ جنوری 2016 میں پابندیاں اٹھنے سے قبل وہ 28 لاکھ بیرل یومیہ پیدا کر رہا تھا۔

’حکام نے اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ وہ آئندہ تین ماہ کے دوران 40 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار بڑھانا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ بہت زیادہ پرمید اعداد و شمار ہیں، لیکن کسی بھی قسم کی پیداوار بڑھانا زیادہ رسد کی صورت میں مسئلہ ہے۔‘

اوپیک مذاکرات کے دو غیرایرانی ذرائع نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ایران کو اس معاہدے میں خصوصی شرائط کی پیش کش کی جا سکتی ہے۔