عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 30 ڈالر سے نیچے آ گئی

،تصویر کا ذریعہAP
بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت رواں ہفتے دوسری بار نمایاں کمی کے بعد 30 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی ایران کی جانب سے تیل کی پیداوار میں اضافے کے خدشات کی وجہ سے آئی ہے۔
اس وقت تیل کی عالمی مانگ میں کمی کے برعکس اس کی پیداوار زیادہ ہے۔
جمعے کو برنٹ کروڈ 4.5 فیصد کمی سے 29.46 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا جبکہ اس کے فوراً بعد یو ایس ویسٹ ٹیکسس کی قیمت بھی 29.47 ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔
ایران جوہری معاہدے کے بعد عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے کی جانب سے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی رپورٹ دینے پر تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔
کومرز بینک کے ماہرین کے مطابق ’جب لگ رہا ہے کہ ایران سے پابندیاں ختم ہونے جا رہی ہیں تو منڈی میں مزید تیل آئے گا، کچھ عرصے کے لیے اضافی رسد کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے، جو موجودہ رجحان قیمتوں میں مزید گراوٹ کا باعث ہو سکتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بینک نے رواں برس تیل کی قیمتوں کے بارے میں پیشنگوئی دوبارہ جاری کی ہے جو پہلے سال کے اختتام تک مجموعی طور پر 63 ڈالر فی بیرل تک تھی اور اب سے 50 ڈالر فی بیرل تک رہنے کی توقع کی گئی ہے۔
ایران کی تیل کی برآمدات پہلے ہی جنوری میں نو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
تیل کی قیمتیں گذشتہ 18 ماہ میں 70 فیصد تک کم ہو چکی ہیں۔ اس کی وجہ چین کی معاشی ترقی کی شرح میں کمی کے نتیجے میں تیل کی طلب میں کمی ہے۔ دوسرا امریکہ میں شیل تیل کی پیداوار بڑھنے سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی رسد زیادہ جبکہ طلب کم ہے۔
قیمتوں میں کمی کا رجحان سعودی عرب کے اس فیصلے کی وجہ سے جاری رہا جس میں اس نے اپنی پیدوار میں کمی نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ماہرین کے خیال میں اس وقت طلب کے مقابلے میں تیل کی یومیہ پیدوار دس لاکھ بیرل زیادہ ہے۔
تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ کسے؟

،تصویر کا ذریعہAP
تیل استعمال کرنے والے صارفین اور چند کاروبار کم قیمتوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور ایئر لائنز کو اس سے فائدہ پہنچ رہا ہے جبکہ متعدد ممالک کو مہنگائی کی شرح کو کم رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔
نقصان کسے ہو رہا ہے؟
تیل برآمد کرنے والے ممالک کو کم قیمتوں کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان کا سامنا ہے، جن میں روس، نائجیریا اور وینزویلا خاص طور پر شامل ہیں۔ قیمتوں کی وجہ سے ہزاروں نوکریاں ختم ہو گئی ہیں ہے جبکہ شیل، بی پی، ٹوٹل، ایکسن موبل جیسی بڑی کمپنیوں نے تیل کی تلاش کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کم کر دی ہے۔
روس نے قیمتوں میں مسلسل کمی کی وجہ سے رواں برس کے مالی بجٹ پر نظرثانی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔







