سعودی عرب کم آمدن کےساتھ رہ سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, مارک لوبیل
- عہدہ, بی بی سی نیوز
گذشتہ ہفتے ہونے والے واقعات تو شاید سعودی عرب میں ہونے والی ان اصلاحات کی نشاندہی نہ کر سکیں جو وہاں ہو رہی ہیں لیکن جب مسئلہ ملکی معیشت کا ہو تو تیل کی دولت سے مالا مال اس سعودی بادشاہت میں معاشی اصلاحات کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔
سعودی عرب اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی سعودی اصلاحات کی دلچسپ کہانی سے توجہ ہٹا رہی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ سعودی معاشرے میں ایسی انقلابی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جن کے بارے میں پہلے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔
دسمبر میں جاری ہونے والے قومی بجٹ میں اس کی پہلی جھلک نظر آئی۔ امید کی جا رہی ہے کہ ان اصلاحات کی اگلی جھلک رواں ماہ نظر آئے گی۔
ان اصلاحات کا مقصد سیاسی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے اس معاشی نظام کی طرف سفر کرنا ہے جس میں تیل کی کم آمدن کے ساتھ گذارا کرنا مقصود ہے۔

سعودی عرب کی وزارت تیل کے سابق اہلکار ڈاکٹر محمد السبحان نے مجھے بتایا: ’یہ اصلاحات عیاشی نہیں بلکہ ضرورت ہیں۔‘
سعودی عرب میں رہنے والے ایک ماہر تعلیم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہاں ایسی بے شمار کہانیاں گردش کر رہی ہیں جن میں ان حکمران کے حشر کا ذکر کیا جاتا ہے جنھوں نے لوگوں کی معاشی ضرورت کو نظر انداز کیا۔ایسی کہانیوں میں بار بار تیونس، مصر، لیبیا کاذکر آتا ہے۔
ریاض کی ایک انویسمنٹ کمپنی ڈیم ہولڈنگز کے مینیجر ابراہیم الجردان اس سے متفق ہیں کہ دنیا کے اس علاقے میں معاشی اصلاحات سیاسی اور معاشرتی استحکام کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سعودی عرب ابھی تک مالی مراعات کے بل بوتے پر سیاسی بےچینی اور شدت پسندی کے خطروں سے بچا ہوا ہے۔ سعودی عرب میں ٹیکس نہ ہونے کے برابر ہے اور دولت کے ضیاع کی ایک لمبی تاریخ ہے جسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
سعودی معیشت میں تیل کی آمدن انتہائی اہم ہے اور ملکی آمدن کا 73 فیصد حصہ تیل کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے۔ایسےحالات میں جب تیل کی قیمتوں میں فوری اضافے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ملک کی محدود سیاسی آزادی خطرے میں ہے اور اسے دور کرنے کے لیے دور رس اقدامات کی ضرورت ہے۔
بادشاہ سلمان کا دلیرانہ اقدام
بادشاہ سلمان نے لوگوں کی ناراضی کا خطرہ مول لیتے ہوئے دسمبر میں جاری ہونے والے بجٹ میں ملکی صارفین کے لیے تیل کی قیموں میں چالیس فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کو روکنے کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
مقامی صارفین کےلیے تیل کی قیمتوں میں چالیس فیصد اضافہ سعودی حکمرانوں کے لیے بہت بڑا قدم ہے۔ سعودی عرب کے حکمرانوں کےلیے تیل سے ہونے والے150 ارب ڈالر کی سالانہ آمدن انتہائی اہم ہے جسے تعلیم، صحت، فوج اور سکیورٹی اداروں پر خرچ کیا جاتا ہے۔
دسمبر میں سعودی عرب میں مقامی صارفین کے لیےتیل کی قیمتوں میں اضافے کےعلاوہ غیر ضروری اخراجات میں کمی کی گئی ہے۔ کئی چھوٹے شہروں میں ٹرانسپورٹ یا کھیلوں کے زیر تعمیر منصوبے یا تو ختم کر دیےگئے ہیں یا ان پر کام رک چکا ہے۔
دوبارہ قابل استعمال انرجی کے منصوبے
سعودی عرب شمسی ، نیوکلیئر اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کا جلد اعلان کرنے والا ہے۔
سعودی عرب کا دوبارہ قابلِ استعمال انرجی کی جانب توجہ کامیابی ہی کامیابی ہے۔ اس سے نہ صرف سے تیل پر انحصار کم ہو گا بلکہ اس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
جادوا انویسمنٹ کے مطابق انرجی پر حکومتی سبسڈی ملک کی مجموعی قومی آمدن (جی ڈی پی) کا دس فیصد حصے کے قریب ہے۔
تیل کی پیدوار کیوں کم نہیں ہو گی

،تصویر کا ذریعہ
سنہ انیس سو اسی کے عشرے میں جب اسی طرح تیل کی وافر مقدار مارکیٹ میں پہنچ رہی تھی تو سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں یکطرفہ طور پر کمی کر دی تھی لیکن دوسرے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے اس کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ لہذا سعودی عرب اب کبھی بھی ایسی غلطی نہیں دہرائےگا اور تیل کی پیداوار میں اس وقت تک کمی نہیں کرے گا جب تک ایران اور روس جیسے ممالک ایسا کرنےکے لیےتیار نہ ہوں۔
سعودی عرب کے وزیر تیل نے حال ہی میں کہا کہ انھوں نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور غیر اوپیک ممالک سے تیل کی مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کی غرض سے رابطہ کیا ہے لیکن ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں ملا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی کم قیمت سعودی عرب کے حریفوں کو بھی متاثر کرتی ہے لہذا سعودی عرب چاہے گا کہ وہ تیل کی پیداوار اپنے کوٹے کے مطابق جاری رکھے۔
تیل کی مارکیٹ کے تجزیہ کار این لوئس ہٹل کے مطابق اپنے کوٹے کے عین مطابق اپنی پیداوار جاری رکھنے کی پالیسی مکمل طور پر سمجھ آتی ہے۔
ڈاکٹر الشبان سمجھتے ہیں کہ تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک جلد ہی سمجھ جائیں گے اور وہ مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کے لیے سعودی عرب کے پاس آئیں گے۔
دسمبر میں جب بجٹ کا اعلان ہوا تو وزرا کا اصرار تھا کہ انکم ٹیکس، جو کبھی سعودی عرب میں نافذ ہی نہیں کیا گیا، اب وہ نہ صرف نافذ ہوگا بلکہ مضر صحت اشیا جیسے سگریٹ اور مشروبات پر ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔
نج کاری کی پالیسی
دسمبر میں جاری ہونے والے بجٹ کی دستاویزات میں کئی شعبوں کی نجکاری کا بھی ذکر ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
کئی ریاستی اثاثے پہلے ہی سیمی پرائیوٹ کمپنیوں کے حوالے ہیں۔ مکنسی کے ماہرین کے مطابق جب تک مزید نج کاری نہیں ہوگی تو سعودی عرب کی معیشت میں بتدریج تنزلی جاری رہےگی۔سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
سعودی عرب کی تین کروڑ کے لگ بھگ آبادی کےعلاوہ ایک کروڑ غیر ملکی وہاں کام کرتے ہیں۔
گذشتہ ماہ سعودی عرب کے وزیر خزانہ ابراہیم الآصف نے کہا تھا کہ اب غیر ملکیوں کا انتخاب کرتے ہوئے زیادہ احتیاط سے کام لیا جائے گا۔ ایسے ضابطے پہلے ہی نافذ ہو چکے ہیں جن کے تحت غیر ملکیوں کی نسبت مقامی شہریوں کو روزگار دینا زیادہ آسان بنایا گیا ہے۔
سعودی معیشت کے ماہر ٹام ایشروڈ کے مطابق مقامی سعودی آبادی کو سیاحت کے شعبوں میں ملازمت دینا زیادہ اہم گا۔ سعودی عرب میں اس وقت مذہبی سیاحت پر ہی توجہ دی جاتی ہے جبکہ ساحل سمندر کے علاوہ دوسرے خوبصورت مقامات کو ترقی دے کر قومی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
سعودی عرب میں اصلاحات پر شکوک

،تصویر کا ذریعہ
لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں یقین ہے کہ سعودی عرب میں کچھ بھی نہیں بدلے گا۔ کاروباری صنعت عرصہ داراز سے اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن سعودی ریاست نےہمیشہ اس سےگریز کیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار کرسپن ہاز کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات انتہائی معمولی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جنوی 2015 میں نئے بادشاہ کی آمد پر سعودی عرب اندرونی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ریاستی اداروں کو 25 ارب ڈالر کا تحفہ دیا تھا جو انتہائی زیادہ تھا۔

،تصویر کا ذریعہ
ڈیم انویسمنٹ ہولڈنگز سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر امیت مروا کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی نےمعاشی اصلاحات کے عمل کو تیز تو کیا لیکن اصلاحات کی وجہ تیل کی قیمتوں میں کمی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ایک عرصے سے اصلاحات کا ایک منصوبہ موجود ہے لیکن سعودی عرب اس پر عمل اپنی رفتار کے مطابق کرتا ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بے روزگار نوجوانوں کے شدت پسندی کی طرف مائل ہونے کے خطرے نے سعودی عرب میں اصلاحات کے عمل کو تیز کیا ہے اور سعودی عرب میں نوجوان سیاستدانوں کی ایک کھیپ موجود ہے جن کی نمائندگی بادشاہ سلمان کے پسندیدہ بیٹے 30 سالہ محمد بن سلمان کرتے ہیں۔
اندرونی ذرائع نے بتایا ہے کہ 30 سال محمد بن سلمان ایک سنجیدہ سوچ رکھنے والے شخص ہیں اور مستقبل قریب میں ملکی معاملات انتہائی مختلف انداز میں چلتے ہوئے نظر آئیں گے۔
ایسی صورتحال میں تیل کی قیمتوں میں کمی ملک میں تبدیلی کے عمل میں ایک غیبی مدد بھی ثابت ہو سکتی ہے۔







