بھارت کا سعودی عرب پر ریپ کیس میں تعاون پر زور

،تصویر کا ذریعہReuters
بھارت کی حکومت نے سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ دہلی سے ملحق شہر گڑگاؤں میں ایک سعودی سفارت کار کے خلاف دو نیپالی خواتین سے مبینہ جنسی زیادتی کے کیس میں جاری تحقیقات میں مدد کرے۔
نپالی خواتین کی عمر 30 اور 50 برس ہے اور دونوں سعودی سفارت کار کے گھر ملازمہ تھیں۔
دونوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سفارت کار اور دیگر سعودی شہریوں نے مبینہ طور پر ان سے بار بار ریپ کیا۔
سعودی عرب کے سفارت خانے نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے جبکہ سعودی سفارت کار کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے اور سفارت خانے میں موجود ہیں۔
پولیس نے سعودی سفارت کار کے خلاف ریپ اور غیرقانونی طور پر قید میں رکھنے کا مقدمہ درج کیا ہے تاہم سعودی اہلکار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔
جمعرات کو بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے وکاس سوروپ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سعودی سفیر سعود محمد الستی کو بلا کر کہا گیا ہے کہ ان کا سفارت خانہ اس کیس میں تعاون کرے۔
دوسری جانب نیپال کے سفیر دیپ کمار اپدھائے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب دونوں خواتین کو بازیاب کرایا گیا تو اس وقت انھیں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ اس کیس میں سعودی سفارت کار ملوث ہیں اور اب چاہتے ہیں کہ اس معاملے کا سفارتی حل نکالا جائے۔
جمعرات کو دونوں نیپالی خواتین واپس اپنے وطن چلی گئی ہیں۔ دونوں خواتین کو ایک غیر سرکاری تنظیم کی مدد سے پیر کے روز فلیٹ سے ریسکیو کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان میں ایک نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا:’ہمیں لگتا تھا کہ ہم یہاں پر ہی مر جائیں گی۔ فلیٹ 10 اور 12 منزل پر تھا اور وہاں سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ہمارے ساتھ روزانہ زیادتی کی جاتی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
گڑگاؤں پولیس کے مطابق الزام لگانے والی نیپالی خواتین کا کہنا تھا کہ پہلے انھیں سعودی عرب کے شہر جدہ لے جایا گیا، جہاں وہ گھریلو کام کرتی تھیں اور پھر ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، کچھ دن پہلے ان خواتین کو سعودی عرب سے واپس بھارت لایا گیا تھا اور گڑگاؤں کے ایک فلیٹ میں لے جایا گیا جہاں مبینہ طور پر انھیں ریپ کیا گيا۔
گڑگاؤں پولیس کا کہنا ہے کہ اس فلیٹ کو دہلی میں واقع سعودی عرب کے سفارت خانے نے کرایے پر لیا تھا۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، گڑگاؤں پولیس کا کہنا ہے کہ جب ایک نئی خاتون گھریلو کام کرنے اس فلیٹ میں پہنچی تو اسے نیپالی خواتین کی مبینہ حالت کا پتہ چلا اور پھر اس نے ایک این جی او کو اس بارے میں بتایا۔
این جی او کے توسط سے معاملہ پولیس تک پہنچا جس کے بعد گڑگاؤں پولیس نے ڈی ایل ایف فیز-2 میں ایک فلیٹ پر چھاپہ مار کر دو خواتین کو وہاں سے نکالا۔







