قتل، خفیہ شناخت اور لاتعداد الزامات

بھارت میں میڈیا کی ایک نامور شخصیت کی گرفتاری نے ایک قتل سے منسلک کہانی، خفیہ شناخت اور لاتعداد الزامات پر سے پردہ اٹھایا ہے اور یہ کہانی ملک کے تمام میڈیا پر چھائی ہوئی ہے۔
منگل کو سرخیوں پر آنے والی خبر کے مطابق ممبئی پولیس نے ایک میڈیا کمپنی کی چیف ایگزیکٹیو اور جانے مانے ٹی وی ایگزیکٹو پیٹر مکھرجی کی بیوی اندرانی مکھرجی کو ان کی بہن شینا بورا کے قتل کے سلسلے میں گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس خبر میں نیا موڑ اس وقت آیا جب گذشتہ روز ممبئی پولیس کمشنر راکیش ماریا نے میڈیا کو بتایا کہ ’اندرانی نے اعتراف کیا ہے کہ شینا بورا ان کی بیٹی تھی۔‘
میڈیا رپورٹوں میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اندرانی مکھرجی نے ممبئی اور دہلی کے امرا طبقے میں ہمیشہ شینا بورا کو اپنی بہن کے طور پر متعارف کروایا ہے۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے مس مکھرجی کو ان کے ڈرائیور کے اعتراف کرنے کے بعد گرفتار کیا تھا جنھوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ انھوں نے قتل کرنے میں اپنی مالکن کو مدد فراہم کی تھی۔

بدھ کو اس کیس کے حوالے سے ایک تازہ گرفتاری کی گئی ہے جس میں اندرانی کے سابق شوہر کو گرفتار کیا گیا ہے۔
اس کیس کی سماعت اب ممبئی کی عدالت کرے گی جبکہ اندرانی مکھرجی اور ان کے وکیل کی جانب سے کسی بھی قسم کا بیان آنا ابھی باقی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ٹی وی ایگزیکٹیو نے اپنی ہی بیٹی کی شناخت اتنے عرصے تک کیوں چھپائے رکھی؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے اس بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا ہے لیکن میڈیا رپورٹیں ان کی زندگی، کریئر اور قتل کے پیچھے ان کے ممکنہ مقاصد کے بارے میں تفصیل سے بھری ہوئی ہیں۔
ٹیلی گراف اخبار نے خاص طور پر اندرانی کے سابقہ خاوندوں اور ساتھیوں کے بارے میں جامع رپورٹ شائع کی ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’شینا بورا اور ان کے بھائی کی پرورش ان کے نانا اور نانی نے گوہاٹی میں کی اور بالآخر دونوں بچے ممبئی آ گئے جہاں سینٹ زیوئیر کالج سے شینا بورا نے اپنی گریجویشن مکمل کی۔

جمعرات کو تقریباً تمام اخباروں نے یہ خبر صفحۂ اول پر شائع کی ہے۔ دی ٹائمز آف انڈیا نے مکھرجی کو ’گریٹ گیٹسبی آف ممبئی‘ لکھا ہے۔
پیٹر مکھرجی نے بھی بعض میڈیا اداروں کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انھیں اس قتل کے بارے میں علم نہیں ہے اور انھیں بتایا گیا تھا کہ شینا بورا امریکہ جا چکی ہیں۔
انھوں دعویٰ کیا ہے کہ انھیں اس بات کا بھی بالکل علم نہیں تھا کہ شینا بورا ان کی بیوی کی بیٹی ہے اور وہ ہمیشہ انھیں اپنی بیوی کی بہن سمجھتے رہے ہیں۔
دوسری جانب سی این این آئی بی این کی ویب سائٹ پر ایک رپورٹ کے مطابق: ’شینا کے بھائی میخائل نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ وہ اور شینا دونوں اندرانی کے بچے ہیں۔‘
میخائل کا کہنا ہے کہ ’مجھے اس پر کوئی شک نہیں ہے کہ میری بہن کو قتل کیا گیا ہے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ شینا کب ہلاک ہوئی۔ جب بھی میں نے پوچھا تو اندرانی نے یہی کہا کہ شینا ملک سے باہر ہے اور اپنی پڑھائی میں مصروف ہے۔‘







