انڈیا میں سینسر شپ کے بڑھتے خدشات

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی، دلی

جارج برنارڈ شا نے کہا تھا کہ ’سینسر شپ کا وجود اس لیے ہوتا ہے تاکہ تصورات اور اداروں کو چیلنج نہ کیا جا سکے۔‘

حال ہی میں انڈیا میں نریندر مودی کی حکومت سے بھی لوگوں کو یہی خدشہ ہے جس نے ان تین ٹی وی چینلوں پر براڈکاسٹنگ کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا ہے جنھوں نےگذشتہ مہینے یعقوب میمن کی سزائے موت پر تنقیدی انٹرویو نشر کیے تھے۔

یعقوب میمن کو سنہ 1993 میں ہونے والے ممبئی حملوں میں مالی معاونت کرنے کے جرم میں سزائے موت دی گئی تھی۔ حکومت نے ان تینوں چینلوں کے لائسنس منسوخ کرنے کی بھی تنبیہ کی ہے۔

یعقوب کی پھانسی ان خبروں کے آنے کے بعد متنازع بن گئی تھی جن کے مطابق انڈین حکام نے ان کی جانب سے تعاون کرنے پر ان کے ساتھ رعایت برتنے کا کہہ کر دھوکہ دیا تھا۔ ان کا کیس 20 سال تک چلتا رہا جس دوران وہ جیل میں رہے۔

ان کی پھانسی نے انڈیا میں سزائے موت اور ’پسند کے انصاف‘ پر بحث چھیڑ دی ہے۔

انڈیا کی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے ایک مختصر ہدایت جاری کی گئی ہے جس میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے پر فخر کرنے والے اس ملک میں آمرانہ گونج سنائی دیتی ہے۔

اس ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ ان انٹرویوز کا مواد ’صدر اور عدالتی نظام کی دیانت داری پر سوال اٹھاتا ہے۔‘

حکومت کو برا کیا لگا؟

ان میں سے ایک انٹرویو میں میمن کے وکیل کا یہ کہنا تھا کہ ان دھماکوں میں ایک ایسے شخص کو عدالتوں نے معاف کر دیا جس پر ان دھماکوں میں میمن سے بڑا کردار ادا کرنے کے الزامات تھے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ’اگر انڈیا سے باہر کسی شخص کو اس طرح معافی دی جائے تو برطانوی یا امریکی حکام یا پھر بہترین قانونی ماہرین اس بات پر آپ کا تمسخر اڑائیں گے۔‘

ایک دوسرے انٹرویو میں ممبئی دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ کہلائے جانے والے چھوٹا شکیل نے چینل کو فون کر کے میمن کی پھانسی کو ’قانونی قتل‘ قرار دیا۔

یعقوب میمن کی پھانسی کے خلاف احتجاج

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیعقوب میمن کی پھانسی نے انڈیا میں سزائے موت پر بحث چھیڑ دی ہے

تینوں چینلوں نے وزارت کی جانب سے جاری کیے گئے ہدایت نامے کے جواب میں کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے دی گئی وجوہات پر سوال اٹھتے ہیں اور یہ کہ انھوں نے تشدد کے واقعات کی کوریج کرتے ہوئے اصولوں کا خیال رکھا ہے۔

اانڈیا میں کیبل نیٹ ورک کے قوانین شدت پسندی کے خلاف آپریشنوں کی میڈیا کوریج کو محدود کرتے ہیں اور انھیں کوریج کے لیے آپریشن ختم ہونے تک صرف سرکاری پریس افسروں کی جانب سے دی گئی تفصیلات پر انحصار کرنا ہوتا ہے۔

ملک کی معروف وکیل اندرا جے سنگھ نے ویب سائٹ ’دی وائر‘ پر ایک مضمون میں لکھا ہے کہ حکومت صدر اور سپریم کورٹ کے لیے یہ لڑائی نہیں لڑ سکتی۔

ان کا کہنا تھا ’کئی سال قبل سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ نشریاتی لہریں ہم سب کی ہیں اور یہ کہ براڈکاسٹنگ کے لیے لائسنس دینے سے انکار کرنے سے اظہار رائے کی آزادی کو نہیں روکا جا سکتا، اور اب حکوت یہی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

یہاں سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ نشریات کی وزارت ارون جیٹلی چلاتے ہیں جو وزیر خزانہ بھی ہیں اور انھیں ایک اعتدال پسند سیاستدان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک سینیئر صحافی کے بقول وہ ’جیو اور جینے دو‘ پر یقین رکھتے ہیں۔

ارون جیٹلی سنہ 1970 کی دہائی میں طالبعلم رہنما تھے اور اندرا گاندھی کی جانب سے لگائی گئی بدنام زمانہ ایمرجنسی کے دوران وہ 19 ماہ تک جیل میں رہے تھے۔ جیٹلی نے رواں سال جون میں اس ایمرجنسی پر لکھی گئی کتاب کی رونمائی کے موقعے پر کہا تھا کہ ’آج کے دور میں ٹیکنالوجی کی وجہ سے میڈیا پر سینسر شپ لگانا ممکن نہیں۔‘

تو مودی کی حکومت ایسے فرمان کیوں جاری کر رہی ہے؟

ارن جیٹلی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنارون جیٹلی وزیر کو ایک اعتدال پسند کے طور پر دیکھا جاتا ہے

ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے ولادی میر پوتن اور رجب طیب اردوغان جیسے رہنماؤں کا رویہ اپنایا ہے۔ ان رہنماؤں کے بارے میں مصنف جوئل سائمن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بھاری مینڈیٹ کو آمروں کی طرح حکومت کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

اس کے علاوہ مودی عوام سے میڈیا کے ذریعے نہیں بلکہ براہِ راست بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس سے ان کا فائدہ بھی ہوا ہے اور انھیں کئی نوجوان بھارتی شہریوں کی جانب سے ستائش بھی ملی ہے جو خود بھی ایسا کرنا ہی پسند کرتے ہیں۔

سینیئر صحافی شیکھر گپتا لکھتے ہیں کہ ’جب حکومت میڈیا پر الزامات لگائے یا اسے ہدف بنانا شروع کر دے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اعصاب پر قابو کھو رہی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت آج کی اس سوشل میڈیا کی دنیا میں یہ سوچ رہی ہے کہ وہ میڈیا پر قابو کر سکتی ہے تو یہ احمقانہ بات ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’میڈیا کے خلاف جنگ کسی بھی حکومت کو شدید اور اکثر ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ اس سے میڈیا کو اتنا نقصان نہیں ہوتا۔‘

انڈیا میں دوسری جمہوریتوں کے مقابلے میں میڈیا کو زیادہ آزادی حاصل نہیں۔ اس سال ’رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں 180 مملک میں انڈیا اس معاملے میں 136 ویں نمبر پر تھا۔

انڈیا میں بظاہر پھلتا پھولتا میڈیا کبھی ایک دھوکا محسوس ہوتا ہے۔

لیکن سب سے بڑا معما یہ ہے کہ اتنی بڑی اکثریت سے اقتدار میں آنے والی حکومت کو ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ کیا یہ عدم تحفظ کی ابتدائی علامات ہیں؟