سلمان خان کی ٹویٹس پر غیر مشروط معافی

سلمان خان نے اپنے متعدد ٹویٹس کے ذریعے یعقوب میمن کو پھانسی نہ دیے جانے کی اپیل کی ہے
،تصویر کا کیپشنسلمان خان نے اپنے متعدد ٹویٹس کے ذریعے یعقوب میمن کو پھانسی نہ دیے جانے کی اپیل کی ہے

بالی وڈ کے معروف اداکار سلمان خان نے ممبئی میں سنہ 1993 میں ہونے والے دھماکوں کے مجرم یعقوب میمن کی پھانسی کی مخالفت کرنے کے معاملے پر پوسٹ کی جانے والی ٹویٹس واپس لے لی ہیں۔

انھوں نے لکھا: ’میرے والد نے فون کیا اور کہا کہ میں اپنی ٹویٹس واپس لے لوں کیونکہ ان سے غلط فہمی پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ لہذٰا میں اپنی بات واپس لیتا ہوں۔‘

انھوں نے لکھا: ’میں نے کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ یعقوب میمن معصوم ہے۔ مجھے اپنے ملک کے عدالتی نظام پر مکمل اعتماد ہے۔ ممبئی دھماکوں میں کئی لوگ مارے گئے تھے۔ میں نے کئی بار یہ کہا ہے کہ ایک بھی معصوم شخص کی موت کا مطلب پوری انسانیت کا قتل ہے۔ نادانستہ طور پر پیدا ہونے والی غلط فہمی کے لیے میں غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔ میں ان لوگوں کی بھی سخت مذمت کرتا ہوں جو یہ دعوی کر رہے ہیں کہ میرے ٹویٹس مذہب کے خلاف ہیں۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ میں تمام مذاہب کا احترام کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔‘

اس سے پہلے سلمان نے ٹویٹر پر لکھا تھا کہ یعقوب میمن کو پھانسی نہیں دی جانی چاہیے بلکہ ان کے بھائی ٹائیگر میمن کو پکڑا جانا چاہیے۔

 سلمان کی غیر مشروط معافی والے ٹویٹس

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن سلمان کی غیر مشروط معافی والے ٹویٹس

اطلاعات کے مطابق میمن کو 30 جولائی کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔ ناگپور جیل میں انھیں پھانسی دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

بھارت کے مغربی شہر ممبئی میں سنہ 1993 میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں میں 250 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔ اس معاملے میں یعقوب میمن کے بھائی ٹائیگر میمن مفرور ہیں۔

یعقوب میمن کو سنہ 2007 میں بھارت کی ایک خصوصی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تھی جسے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔

سلمان خان نے ٹویٹ میں کہا کہ: ’کسی بے قصور کو پھانسی دیا جانا پوری انسانیت کا قتل ہے۔‘

خیال رہے کہ پھانسی کے سلسلے میں معافی کی آخری امید صدر جمہوریہ نے بھی یعقوب میمن کی رحم کی درخواست کو مسترد کردیا ہے تاہم اب کئی دوسرے اہم افراد نے ان سے تازہ رحم کی اپیل کی ہے جن میں بی جے پی کے رکن پارلیمان اور اداکار شتروگھن سنہا اور معروف وکیل رام جیٹھ ملانی شامل ہیں۔

سلمان نے پاکستان کے وزیر اعظم سے ٹائیگر میمن کی اطلاع دینے کی اپیل کی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسلمان نے پاکستان کے وزیر اعظم سے ٹائیگر میمن کی اطلاع دینے کی اپیل کی ہے

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل پرشانت بھوشن سے سلمان خان کے ٹویٹس کے بارے میں بی بی سی کو بتایا: ’سلمان خان نے جو ٹویٹ کیا ہے وہ عدالت کی توہین نہیں ہے۔ ان کے پاس اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق ہے۔ لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہو گا کہ یعقوب بے قصور ہے۔ وہ بھلے ہی ممبئی دھماکوں میں ملوث نہ رہے ہوں، لیکن ہو سکتا ہے انھوں نے اصل قصورواروں کی مدد کی ہو۔‘

بھوشن نے کہا: ’میں نے اور کئی سابق ججوں نے یعقوب کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے بارے میں ایک درخواست صدر کے سامنے بھیجی ہے۔ ان کا جرم اتنا بڑا نہیں ہے کہ انھیں پھانسی دی جائے۔‘

تاہم سلمان خان کا نظریہ بظاہر دوسرا نظر آتا ہے۔ سلمان خان نے ٹویٹ کیا: ’ٹائیگر کے بھائی کو سولی پر چڑھایا جا رہا ہے، ٹائیگر کہاں ہے؟ ٹائیگر کو پکڑو، اس کی پریڈ کراؤ لیکن یعقوب کو پھانسی مت دو۔‘

یعقوب میمن کو 30 جولائی کو پھانسی دی جانی ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنیعقوب میمن کو 30 جولائی کو پھانسی دی جانی ہے

سلمان خان نے ممبئی دھماکوں کے مفرور ملزم اور یعقوب میمن کے بھائی ٹائیگر میمن سے سامنے آنے کے لیے بھی کہا ہے۔

انھوں نے ٹویٹ کیا: ’ٹائیگر، تمہارا بھائی کچھ دنوں میں تمہارے لیے پھانسی کے پھندے پر چڑھنے والا ہے۔ کوئی بیان، کوئی پتہ کچھ تو بولو کہ تم تھے۔ واہ بھائی ہو تو ایسا، مطلب یعقوب۔‘

سلمان خان نے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے درخواست کی کہ اگر ٹائیگر ان کے ملک میں ہو تو بتا دیں۔ انھوں نے لکھا: ’شریف صاحب ایک درخواست ہے کہ اگر وہ آپ ملک میں ہے تو آپ برائے مہربانی اطلاع کر دیجیے۔‘

سلمان خان نے لکھا کہ وہ گذشتہ تین دنوں سے اس معاملے پر ٹویٹ کرنا چاہ رہے تھے لیکن ڈر رہے تھے۔

سلمان خان نے اس معاملے پر متعدد ٹویٹس کیے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسلمان خان نے اس معاملے پر متعدد ٹویٹس کیے

انھوں نے کہا اس معاملے میں ایک شخص کے ساتھ اس کا خاندان بھی منسلک ہے۔

انھوں نے مزید لکھا: ’کون سا ٹائیگر، کیسا ٹائیگر کدھر ہے ٹائیگر، سمجھ رہا ہے ٹائیگر، کیا سوچ کر نام دیا تھا اور کیا معنی نکلا اس کا۔۔۔ کہاں چھپا ہے ٹائیگر؟ وہ کوئی ٹائیگر نہیں ہے بلی ہے اور ہم ایک بلی کو نہیں پکڑ سکتے۔

’اب کوئی بھی اسے ٹائیگر نہ کہے۔ وہ اس کے لائق نہیں ہے۔ اس ۔۔۔ کو پھانسی دے دو۔ خالی جگہ کو پر کر لیں۔‘