’الزامات ثابت‘: سلمان خان پانچ سال کے لیے جیل میں

،تصویر کا ذریعہAFP
ممبئی کی ایک عدالت نے تقریباً 12 سال پرانے ’ہٹ اینڈ رن‘ معاملے میں اداکار سلمان خان کو غیر ارادی قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے پانچ سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
انھیں عدالت سے ہی ممبئی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے اور اب انھیں آرتھر روڈ جیل بھیجا جائے گا۔
<link type="page"><caption> سلمان جیل چلے گئے تو۔۔۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/entertainment/2015/05/150506_salman_verdict_effect_industry_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ اس واقعے کے متاثرین کو مزید کوئی زرِ تلافی ادا نہیں کیا جائے گا۔
نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق سلمان خان کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے جبکہ ضمانت کے لیے بھی سلمان خان کو ممبئی کی ہائی کورٹ سے رجوع کرنا ہوگا۔
سلمان خان پر الزام ہے کہ انھوں نے سنہ 2002 میں سڑک کے کنارے سونے والے پانچ افراد پر گاڑی چڑھا دی تھی جن میں سے ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔
سلمان خان اس الزام سے انکار کرتے آئے تاہم جمعرات کو عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سلمان خان ہی نشے کی حالت میں وہ گاڑی چلا رہے تھے اور ان پر عائد تمام الزامات درست ثابت ہوئے ہیں۔
سلمان خان فیصلہ سننے کے لیے عدالت میں موجود تھے اور سیشن جج ڈي ڈبلیو دیش پانڈے نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’گاڑی آپ ہی چلا رہے تھے۔ یہ ناممکن ہے کہ سٹیرنگ وہیل کے پیچھے آپ کا ڈرائیور تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
جج نے جس وقت فیصلہ سنایا اس وقت سلمان کٹہرے میں کھڑے تھے اور فیصلہ سننے کے بعد وہ بالکل بجھ سے گئے۔ انھوں نے عدالت کے احاطے میں ہی خود کو حکام کے حوالے کر دیا۔
سزا کے تعین کے لیے ہونے والی سماعت کے دوران سلمان خان نے عدالت سے کہا کہ وہ ایک عرصے سے انسانیت کے لیے کام کر رہے ہیں اور سزا سناتے ہوئے ان کے اس کام کو ذہن میں رکھا جائے، وہ کسی بھی طرح سے انسانیت مخالف نہیں ہیں۔
سلمان نے کہا کہ وہ اگر جیل جاتے ہیں تو ان کے علاوہ کئی لوگوں کو نقصان ہوگا کیونکہ ان پر تقریبا 200 کروڑ روپے کی ذمہ داری ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کان کے انفیکشن سے دوچار ہیں اور جیل جانے سے ان کی بیماری سنگین ہو سکتی ہے۔ عدالت میں ان کی طبی ریکارڈ بھی پیش کیا گیا ہے۔
’ہٹ اینڈ رن‘ کا واقعہ 28 ستمبر سنہ 2002 کا ہے اور اس رات سلمان خان کی ٹویوٹا لینڈ کروزر ممبئی کے علاقے باندرہ میں امریکن ایکسپریس بیکری سے ٹکرائی تھی۔
حکام کے مطابق سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر پانچ افراد سو رہے تھے جو گاڑی کی زد میں آ گئے۔ ان میں سے 38 سالہ نوراللہ خان کی موت ہو گئی جبکہ تین افراد شدید جبکہ ایک شخص معمولی زخمی ہوا تپا۔

،تصویر کا ذریعہSpice PR
استغاثہ کا الزام تھا کہ سلمان خان خود گاڑی چلا رہے تھے اور انھوں شراب پی رکھی تھی۔
تاہم رواں برس مارچ میں عدالتی کارروائی کے دوران سلمان خان نے کہا تھا کہ نہ تو وہ گاڑی چلا رہے تھے اور نہ ہی انھوں شراب پی رکھی تھی۔
27 مارچ کو عدالت میں بیان دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں نشے میں نہیں تھا اور نہ ہی گاڑی چلا رہا تھا. ڈرائیونگ سیٹ پر میرا ڈرائیور اشوک تھا جب یہ حادثہ ہوا۔‘
بعدازاں 31 مارچ کو سلمان کے ڈرائیور اشوک سنگھ نے خود ڈرائیونگ سیٹ پر ہونے کا اعتراف کیا۔ انھوں نے عدالت میں کہا،’پولیس میرا یقین نہیں کر رہی تھی اس لیے میں اتنے سال خاموش رہا لیکن اس دن گاڑی میں ہی چلا رہا تھا۔‘
تاہم بہت سے عینی شاہدین سلمان خان اور ان کے ڈرائیور کے بیانات سے متفق نہیں تھے۔

،تصویر کا ذریعہAgency
سلمان خان کی سکیورٹی سے منسلک ایک کانسٹیبل نے پولیس کو دیے جانے والے ایک بیان میں کہا تھا کہ اداکار نشے میں اپنی گاڑی پر قابو نہ رکھ سکے۔ اس پولیس والے کی سنہ 2007 میں ٹی بی سے موت ہو چکی ہے۔
سلمان خان بالی وڈ کے بڑے سٹار معروف کہانی کار اور مکالمہ نگار محمد سلیم کے بیٹے ہیں۔ انھوں نے اب تک 80 سے زائد ہندی فلموں میں اداکاری کی ہے۔
ان کی متعدد فلمیں جن میں ’دبنگ‘، ’ریڈی‘، ’باڈی گارڈ‘، ’ایک تھا ٹائيگر‘، ’میں نے پیار کیا‘، ’ہم آّپ کے ہیں کون‘ وغیرہ زبردست ہٹ رہیں۔
بی بی سی اردو کے نامہ نگار کے مطابق سلمان اور ان کا خاندان فلم انڈسٹری سے بہت قریب ہے اور اس واقعے میں فلمی صنعت ان کے ساتھ رہی ہے اور ان کی سزا یابی سے پوری انڈسٹری کو دھچکا پہنچا ہے۔
خیال رہے کہ سلمان خان پر راجستھان میں ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران غیر قانونی طور پر ہرن کا شکار کرنےکے الزام میں بھی مقدمہ چل رہا ہے۔
اودے پور کی عدالت میں یہ مقدمہ بھی آخری مرحلے میں ہے اور گواہوں کے بیانات قلم بند کیے جا چکے ہیں ۔








