ممبئی دھماکوں نے شہر کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا

ممبئی دھماکوں کی فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشن1993 کے ممبئی دھماکوں میں تقریبا ڈھائی سو افراد ہلاک ہوئے تھے

1993 کے ممبئی بم دھماکوں کی سازش کے مجرم یعقوب میمن کو جمعرات کی صبح پھانسی دے دی گئی۔

ان دھماکوں میں ڈھائی سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ کالم نگار باچی کرکاریا بتارہی ہیں کہ کس طرح ان بم دھماکوں نے انڈیا کے اقتصادی مرکز ممبئی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

دو گھنٹے اور دس منٹ ممبئی کو ہمیشہ کے لیے بدلنے کے لیے کافی تھے۔

12 مارچ 1993 کو جمعے کے دن 01:30 سے 03:40 کے درمیان ممبئی شہر یکے بعد دیگرے 13 بم دھماکے ہوئے۔ ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔ ممبئی کی علامت سمجھی جانے والی عمارتوں کو نقصان پہنچا جن میں سب سے اہم ممبئی سٹاک ایکسچینج کی عمارت تھی۔

جن دیگر عمارتوں میں دھماکے ہوئے ان میں شہر کےجنوب میں واقع ایئر انڈیا کی عمارت، مغرب میں واقع سی راک ہوٹل، پلازہ سنیما، اور ٹاٹا برلا کی ملکیت سینچری بازار شامل تھے۔

چونکہ یہ دھماکے 1992 اور جنوری 1993 کے درمیان ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران بڑی تعداد میں مسلمانوں کی ہلاکتوں کے بدلے میں کیے گئے تھے اس لیے دائیں بازوں کی مقامی شیو سینا کے پارٹی ہیڈکوارٹر کو واضح طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔

1992کے فسادات ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ایودھیا میں واقع تاریخی بابری مسجد کے انہدام کے نتیجے میں ہوئے تھے۔

فرقہ پرستی اور کاروبار ایک دوسرے کے دوست نہیں ہو سکتے۔ ممبئی کے بارے میں بھی حقیقت یہی ہے کہ وہ ایک اقتصادی مرکز ہے جہاں سب مذہب کے لوگ ایک ساتھ مل کر کاروبار کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کے بغیر ان کا کاروبار ناممکن ہے۔

داؤد ابراہیم
،تصویر کا کیپشنداؤد ابراہیم ایک پولیس سپاہی کا بیٹا ہے

ممبئی میں زندگی جلد ہی معمول پر آگئی تھی اور اس میں مقامی امن کمیٹیوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ہندو تاجر سامان سپلائی کرنے والے مسلمانوں کے بغیر اپنا کاروبار نہیں کر سکتے تھے۔

1993 کے بم دھماکوں میں 257 افراد ہلاک اور 1400 زخمی ہوئے اور اس سے ممبئی اور اس کے شہریوں کی نفسیات کو زبردست دھچکا لگا۔

ان دھماکوں کے ساتھ ہی پہلی بار انڈیا کا کوئی بڑا شہر شدت پسندی کے روبرو ہوا۔

کئی دہائیوں تک ممبئی سونے کی سمگلنگ کا گڑھ بنا رہا کیونکہ وہاں جرائم پیشہ گروہ بہت سرگرم تھے۔

ایک دور تھا جب داؤد ابراہیم جیسے سمگلر ممبئی کے لوگوں کے لیے پُرکشش ہوتے تھے۔ وہ ایک پولیس کے سپاہی کا بیٹا تھا جو شہر کا سب سے طاقتور انڈ رولڈ ڈان بنا اور بعد میں انڈیا کو سب مطلوب شخص بن گیا۔

داؤد ابراہیم اور ٹائیگر ممین پر الزام ہے کہ انہوں نے ہی ممبئی بم دھماکوں کا منصوبہ بنایا تھا اور وہ فرار ہیں۔

ممبئی

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنممبئی کو انڈیا کی اقتصادی دارلحکومت کہا جاتا ہے

2003 میں ایک بار پھر ممبئی میں دھماکے ہوئے۔ شہر کی پہچان سمجھی جانے والی عمارتوں گیٹ وے آف انڈیا اور زاویری بازار کو نشانہ بنایا گیا۔

سنہ 2006 میں ممبئی میں زندگی کی شہہ رگ کہلانے والی ٹرینوں میں سلسلہ وار دھماکے ہوئے جن میں 180 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

اُس کے بعد ایک بار پھر ممبئی کے دل تب دہلا جب 60 گھنٹوں تک شدت پسندوں نے ممبئی کو اپنا غلام بنا کر رکھا۔ ان حملوں میں ریلوے سٹیشن، تاج ہوٹل، اور یہودیوں کے ثقافتی مرکز کو نشانہ بنايا گیا اور 166 جانیں گئیں۔ یہ انڈیا کی تاریخ کا سب سے بڑا شدت پسند حملہ تھا۔ اس واقعے میں 9 حملہ آوروں کو بھی ہلاک کیا گیا۔

اس حملے کے بعد ممبئی عالمی شدت پسندی کے نقشے پر آگیا اور اس سے جو ذہنی اور مالی نقصان ہوا اس نے 1993 کے دھماکوں کے خوف کو تازہ کر دیا۔

اس کے علاوہ جولائی 2011 میں تین مقامات پر دھماکے ہوئے جن میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

1993 کے دھماکوں کی راکھ سے جو ایک چیز پھر سے زندہ اٹھ کر کھڑی ہوئی وہ تھی ممبئی والوں کا ایک دوسری کی مدد کا جذبہ۔

عام لوگوں نے زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا اور دن کے آخر تک بلڈ بینک، خون عطیہ کرنے والوں سے بھرے رہے۔

اگلی صبح لوگ حملے کا نشانہ بننے والی عمارتوں کے اندر صحیح سلامت بچ جانے والے دفاتر میں کام پر لوٹ آئے تھے۔ یہ اپنے آپ میں ایک بے مثال بات تھی۔

سنہ 2006 میں ریلوے ٹریک کے قریب کچی بستی کے رہائشیوں نے زخمیوں کی مدد کی۔

ممبئی انڈیا کا سب سے بڑا ملی جلی آبادی والا شہر ہے اور وہاں لوگوں میں ایک دوسرے کی مدد کا جو جذبہ ہے وہ ممبئی پر بار بار حملوں کے باوجود شہر کی روح کو بچائے ہوئے ہے۔