بھارت میں سعودی سفارتکار پر ریپ کے الزامات

بھارت میں ریپ کے خلاف قانون میں گذشتہ چند برسوں کے دوران سختی کی گئی ہے
،تصویر کا کیپشنبھارت میں ریپ کے خلاف قانون میں گذشتہ چند برسوں کے دوران سختی کی گئی ہے

بھارتی دارالحکومت دہلی سے ملحق شہر گڑگاؤں میں پولیس کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ایک سفارت کار کے خلاف دو نیپالی خواتین سے مبینہ جنسی زیادتی کے معاملے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

گڑگاؤں پولیس کے جوائنٹ کمشنر سوربھ سنگھ نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے لیکن ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، نیپالی خواتین جن کی عمر تقریباً 30 سال ہے، کا کہنا ہے کہ انھیں اغوا کیا گیا اور سفارت کار نے مبینہ طور پر ایک فلیٹ میں انھیں بار بار ریپ کیا۔

گڑگاؤں پولیس کے مطابق الزام لگانے والی نیپالی خواتین کا کہنا ہے کہ پہلے انھیں سعودی عرب کے شہر جدہ لے جایا گیا، جہاں وہ گھریلو کام کرتی تھیں اور پھر ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، کچھ دن پہلے ان خواتین کو سعودی عرب سے واپس بھارت لایا گیا تھا اور گڑگاؤں کے ایک فلیٹ میں لے جایا گیا جہاں مبینہ طور پر انھیں ریپ کیا گيا۔

گڑگاؤں پولیس کا کہنا ہے کہ اس فلیٹ کو دہلی میں واقع سعودی عرب کے سفارت خانے نے کرایے پر لیا تھا۔

بھارت میں ریپ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبھارت میں ریپ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، گڑگاؤں پولیس کا کہنا ہے کہ جب ایک نئی خاتون گھریلو کام کرنے اس فلیٹ میں پہنچی تو اسے نیپالی خواتین کی مبینہ حالت کا پتہ چلا اور پھر اس نے ایک این جی او کو اس بارے میں بتایا۔

این جی او کے توسط سے معاملہ پولیس تک پہنچا جس کے بعد گڑگاؤں پولیس نے ڈی ایل ایف فیز-2 میں ایک فلیٹ پر چھاپہ مار کر دو خواتین کو وہاں سے نکالا۔

این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ کے مطابق بھارت میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے ان الزمات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ اس معاملے میں سفارتی استثنیٰ معاملے کو مزیدہ پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے حکام نے کہا ہے کہ وہ تفصیلی رپورٹ کے انتظار میں ہیں اور سعودی عرب کے سفارت خانے سے رابطے میں ہیں۔