کیمرون میں بوکو حرام کے 89 اراکین کو سزائے موت

کیمرون میں سنہ 2014 میں انسداد دہشت گردی کا قانون منظور کیا تھا جس میں سزائے موت متعارف کروائی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکیمرون میں سنہ 2014 میں انسداد دہشت گردی کا قانون منظور کیا تھا جس میں سزائے موت متعارف کروائی گئی تھی

افریقی ملک کیمرون میں مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے 89 اراکین کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔

کیمرون کی فوجی عدالت نے بوکو حرام کے ان اراکین کو نائجریا سے ملحق شمالی علاقے میں حملوں پر دہشت گردی کا مرتکب قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ کیمرون میں سنہ 2014 میں انسداد دہشت گردی کا قانون منظور کیا تھا جس میں سزائے موت متعارف کروائی گئی تھی۔

اس قانون کی منظوری کے بعد پہلی مرتبہ سزائے موت سنائی گئی ہے۔

سزائے موت پائے جانے والے افراد ان 850 افراد میں شامل ہیں جنھیں کیمرون میں بوکوحرام کے ساتھ تعلقات کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

سزائے موت سنائے جانے کے بعد انسانی حقوق کے مقامی تنظیم نے کیمرون کے انصاف کے نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال کیمرون کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف علاقائی اتحاد میں شامل ہونے کے بعد ملک میں سینکڑوں افراد حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔