چاڈ میں تین بم دھماکوں میں کم از کم 38 ہلاک

گذشتہ چند ماہ میں چاڈ کے علاوہ نائیجر اور کیمرون میں بھی شدت پسندوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ چند ماہ میں چاڈ کے علاوہ نائیجر اور کیمرون میں بھی شدت پسندوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے

افریقی ملک چاڈ میں ہسپتال حکام کے مطابق تین بم دھماکوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ دھماکہ نائجیریا کے سرحد سے متصل علاقے میں کیے گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے پانچ افراد کے بارے میں شبہہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان کا تعلق شدت پسند تنظیم بوکو حرام سے تھا۔

<link type="page"><caption> بوکوحرام کو جلد شکست ہو جائے گی؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151002_bokoharam_analysis_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> بوکو حرام کی قید میں کیا دیکھا؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/05/150504_boko_haram_captives_hk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> بوکو حرام کا تباہی وبربادی کا کھیل</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/03/150316_boko_haram_atk.shtml" platform="highweb"/></link>

بی بی سی نامہ نگار کے مطابق ایک دھماکہ باگاسولہ میں جھیل چاڈ کے قریب واقع مچھلی منڈی میں ہوا۔

دیگر دو دھماکے شہر کے مصافات میں واقع پناہ گزینوں کے کیمپوں میں ہوئے۔ ان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں مقیم بیشتر افراد کا تعلق نائجیریا سے ہے جنھوں نے چاڈ میں پناہ حاصل کی ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ چند ماہ میں چاڈ کے علاوہ نائیجر اور کیمرون میں بھی شدت پسندوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ان تمام ممالک کے اتحاد نے شدت پسندوں کے خلاف اتحاد بھی قائم کیا ہوا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں بوکوحرام نے نائیجریا کے دارالحکومت ابوجا میں دو بم دھماکوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یاد رہے کہ سنہ 2009 سے بوکوحرام کے منظرعام پر آنے کے بعد پرتشدد واقعات میں اب تک 17 ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔ تشدد سے متاثر ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق نائجیریا سے ہے۔