بوکو حرام سے بچ جانے والے افراد کی آب بیتی

افریقی ملک نائجیریا میں گذشتہ چھ سالوں کے دوران 20 لاکھ سے زیادہ افراد شدت پسند تنظیم بوکو حرام سے بچنے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں۔

افریقہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جمی صالح کچھ ایسے شہریوں سے ملے اور یہ جانا کہ ان لوگوں نے خود کو اسلامی شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے حملوں سے کیسے محفوظ رکھا اور اب کیسے نمٹ رہے ہیں؟

مائی مُٹی

55 سالہ سابق بزنس مین مائی مُٹی دیگر ہزاروں افراد کے ساتھ اس وقت بھاگے جب سنہ 2014 میں بوکو حرام کے شدت پسندوں نے ان کے قصبے باما پر حملہ کیا
،تصویر کا کیپشن55 سالہ سابق بزنس مین مائی مُٹی دیگر ہزاروں افراد کے ساتھ اس وقت بھاگے جب سنہ 2014 میں بوکو حرام کے شدت پسندوں نے ان کے قصبے باما پر حملہ کیا

افریقہ میں قائم دلوری نامی کیمپ میں سب سے زیادہ نمایاں شخصیات میں سے ایک مائی مُٹی ہیں۔مائی مُٹی چلتے ہوئے لکڑی کی بیساکھی استعمال کرتے ہیں۔

55 سالہ سابق بزنس مین مائی مُٹی دیگر ہزاروں افراد کے ساتھ اس وقت بھاگے جب سنہ 2014 میں بوکو حرام کے شدت پسندوں نے ان کے قصبے باما پر حملہ کیا۔

مائی مُٹی جب اپنے قصبے سے بھاگے تو شدت پسندوں نے ان کی بائیں ٹانگ کر گولی ماری جس کی وجہ سے وہ لنگڑا کر چل رہے تھے۔

انھوں نے بتایا ’جب شدت پسند صبح کے وقت میرے گھر آئے تو میں بستر پر لیٹا اپنے زخم کا علاج کر رہا تھا۔‘

مائی مُٹی کے مطابق ’شدت پسندوں نے میرے 24 سالہ بیٹے کو گولی مار دی اور میری دو بیٹوں کو اغوا کر لیا۔‘

مائی مُٹی اب اپنی دو بیویوں، دس دوسرے بچوں اور تین پوتوں کے ساتھ دلوری میں رہتے ہیں۔

وہ اور ان کے پڑوسیوں کا اس حوالے سے کیا تجربہ رہا وہ اسے اپنے بچوں سے چھپا رہے ہیں۔

معاجی موڈو

معاجی موڈو کو ابھی تک اپنے شوہر اور آٹھ بچوں کے قسمت کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے
،تصویر کا کیپشنمعاجی موڈو کو ابھی تک اپنے شوہر اور آٹھ بچوں کے قسمت کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے

دلوری کیمپ کے باورچی خانے میں کھانا بنانے والی ایک خاتون معاجی موڈو بھی ہیں۔ معاجی موڈو کو ابھی تک اپنے شوہر اور آٹھ بچوں کے قسمت کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔

شدت پسند معاجی موڈو کی اولاد میں سے کچھ کو باما کے قصبے میں واقع ان کے گھر سے اپنے ساتھ لے گئے جبکہ دوسرے بچوں کو ان کے سکول سے اغوا کیا گیا۔

معاجی موڈو کا کہنا ہے ’ میں ہر بار انھیں یاد کر کے روتی ہوں۔‘

دلوری کیمپ کے اہلکاروں نے معاجی موڈو کی حالت پر ترس کھا کر انھیں باروچی کی نوکری دی۔

امونہ

امونہ کو بوکو حرام کے شدت پسندوں کی جانب سے باما میں واقع ان کے دو گھر چِھن جانے کا دکھ ہے
،تصویر کا کیپشنامونہ کو بوکو حرام کے شدت پسندوں کی جانب سے باما میں واقع ان کے دو گھر چِھن جانے کا دکھ ہے

دلوری کیمپ میں رہنے والے عمر رسیدہ افراد میں سے ایک مسز امونہ کی عمر کم سے کم 100 سال ہے۔

امونہ کو بوکو حرام کے شدت پسندوں کی جانب سے باما میں واقع ان کے دو گھر چِھن جانے کا دکھ ہے۔

امونہ نے بتایا کہ اسلامی جنگجوؤں نے بندوق کی نوک پر ان کے دونوں گھروں پر قبضہ کر لیا۔

نائیجریا کی فوج کی جانب سے بوکو حرام کے کنٹرول سے بہت سے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لینے کے بعد امونہ کو امید ہے کہ نائیجیریا کے سپاہی انھیں واپس ان کے گھر لے جانے کے قابل ہو جائیں گے۔

مسٹر اینڈ مسز موڈو بولاما

55 سالہ موڈو بولاما دلوری کیمپ میں اس وقت آئے جب بوکو حرام کے شدت پسندوں نے ان کی بیوی اور دو بچوں کو ہلاک کر دیا
،تصویر کا کیپشن55 سالہ موڈو بولاما دلوری کیمپ میں اس وقت آئے جب بوکو حرام کے شدت پسندوں نے ان کی بیوی اور دو بچوں کو ہلاک کر دیا

دلوری کیمپ کی اداسی کے باوجود کچھ رہائشیوں کو محبت کرنے کے لیے وقت مل ہی جاتا ہے۔

55 سالہ موڈو بولاما دلوری کیمپ میں اس وقت آئے جب بوکو حرام کے شدت پسندوں نے ان کی بیوی اور دو بچوں کو ہلاک کر دیا۔

دلوری کیمپ کے رہائشیوں کو امدادی سامان تقسیم کرنے کے دوران موڈو بولاما کی ملاقات ایک خاتون سے ہوئی۔

دونوں نے اپنے تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیے جس کے بعد بوڈو بولاما نے اس خاتون کو شادی کی پیشکش کی۔

کیمپ میں رہنے کے باوجود اس روایت کو چھوڑا نہیں گیا اور بوڈو بولاما نے اس عورت سے شادی کرنے کے لیے 50 ڈالر اکھٹے کیے۔ اس عورت کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔