نائجیریا کی فوج بوکو حرام کو شکست دینے کے قریب: صدر بوہاری

نائجیریا کے صدر محمد بوہاری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی فوج اسلامی شدت پسند تنظیم بوکو حرام کو پوری طرح سے شکست دینے کے بہت قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب اس شدت پسند تنظیم میں فوج پر یا اہم آبادی والے علاقوں میں روایتی حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں رہ گئی ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’میرے خیال سے تکنیکی سطح پر ہم یہ جنگ جیت چکے ہیں۔‘
بغاوت کے گذشتہ چھ سالہ میں شمال مشرقی نائجیریا کے علاقوں میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے تباہی مچا رکھی ہے اور صدر نے فوج کو اس ماہ کے آخر تک بوکو حرام کو پوری طرح سے شکست دینے کی مہلت دی تھی۔
تشدد میں اب تک تقریبا 17000 افراد ہلاک اور 20 لاکھ کے قریب بے گھر ہوچکے ہیں۔
صدر بوہاری نے کہا کہ جہادیوں کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے اور فوجی کارروائی کے نتیجے میں ان کے پاس اب خودکش بمباری کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’بوکوحرام اب پھر سے خودساحتہ دھماکہ خیز آلات کا استعمال کر رہی ہے انھیں اب اس حالت میں کر دیا گیا ہے۔ وہ ایک منظم لڑاکا جنگجو تنظیم ہے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم نے ان سے اچھی طرح نمٹا ہے۔‘
صدر نے کہا ’اب وہ پہلے کی طرح اپنی فورسز کو مارشل کر کے فوج یا اس کی تنصیبات پر حملہ نہیں کر سکتے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں کوئی غلط بات کہہ رہا ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر بوہاری کا کہنا تھا کہ نائیجیریا نے اپنی فوج کو از سر نو منظم اور مسلح کیا ہے اور اسے برطانیہ، امریکہ اور فرانس کی تربیت حاصل ہے۔ ’اس کے لیے بہت کچھ کیا جارہا ہے۔‘
نائیجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں میں بی بی سی کے نامہ نگار بشیر سعد عبداللہ کا کہنا ہے کہ صدر کو بوکو حرام کو شکست دینے کے لیے اپنی معیاد میں مزید توسیع کرنا پڑیگی۔
ان کے مطابق بوکوحرام کے زیر کنٹرول شہر اس سے آزاد تو ہوگئے ہیں لیکن اب بھی وہ جا بجا دھماکے کرتے رہتے ہیں۔
لیکن حکومت پر تنقید کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ حکومت بوکوحرام سے نمٹنے میں ملنے والی کامیابیوں میں مبالغہ آرائی سے کام لے رہی ہے اور جب بھی فوج نے یہ دعوی کیا ہے کہ بوکو حرام کو پوری طرح سے نیست و نبود کر دیا گیا وہ دوبارہ منظم ہوجاتی ہے۔







