نائجیریا میں سابق مشیر پر دو ارب ڈالر کی چوری کا الزام

اپنی گرفتاری کے حکم کے رد عمل میں مسٹر دسوکی نے کہا کہ انھیں ہتھیاروں کی وصولی کے تفتیش کاروں کی طرف سے کوئی بلاوہ نہیں آیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناپنی گرفتاری کے حکم کے رد عمل میں مسٹر دسوکی نے کہا کہ انھیں ہتھیاروں کی وصولی کے تفتیش کاروں کی طرف سے کوئی بلاوہ نہیں آیا ہے

نائجیریا کے صدر محمد بہاری نے اپنے پیشرو کے سلامتی کے مشیر کو دو ارب ڈالر کی مبینہ چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

سامبو دسوکی پر الزام عائد ہے کہ انھوں نے 12 ہیلی کاپٹر، چار جنگی طیارے اور اسلحہ جعلی ٹھیکوں پر دیے تھے۔

ان آلات کو بوکو حرام کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی کرنے کی لیے استعمال کرنے کے لیے رکھا گیا تھا۔

نائجیریا کے فوجیوں نے شکایات کی تھیں کہ فوج کے پاس زیادہ صلاحیتیں ہونے کے باوجود اُن کے پاس لڑنے کے لیے کم ہتھیار موجود ہیں۔

اپنی گرفتاری کے حکم کے رد عمل میں مسٹر دسوکی نے کہا کہ انھیں ہتھیاروں کی وصولی کے تفتیش کاروں کی طرف سے کوئی بلاوہ نہیں آیا ہے، جن کی جانب سے ان پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔

جب صدر نے مسٹر دسوکی کی گرفتاری کے لیے حکم جاری کیا تھا تو وہ پہلے سے ہی اپنے گھر میں نظربند تھے۔

بوکو حرام نے ایک اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے شمال مشرقی نائجیریا میں ہزاروں لوگوں کو ہلاک کیا ہے
،تصویر کا کیپشنبوکو حرام نے ایک اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے شمال مشرقی نائجیریا میں ہزاروں لوگوں کو ہلاک کیا ہے

ان کی نظر بندی کا حکم ایک مسلسل جاری ہونے والے مقدمے کے تحت دیا گیا تھا جس کے مطابق مسٹر دسوکی نے مبینہ طور پر غیر قانونی اسلحہ رکھا ہوا تھا۔

اُس مقدمے کے دوران عدالت نے مسٹر دسوکی کا پاسپورٹ انھیں واپس فراہم کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ برطانیہ کا سفر کر کے ایک بیماری کا علاج کروا سکیں۔

اس مقدمے کی سماعت مسٹر دسوکی کی وطن واپسی پر جاری رکھنے کی توقع تھی لیکن حکومت نے انھیں وطن چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

صدر بہاری نے رواں سال مئی میں اقتدار میں آنے سے پہلے گذشتہ حکومت میں بدعنوانی کی تحقیقات کرنے کا وعدہ کیا تھا جس میں مسٹر دسوکی شامل تھے۔