بوکو حرام کے خلاف لڑائی کے لیے امریکی فوج کیمرون روانہ

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ کے صدر براک اوباما نے افریقی ملک کیمرون میں اسلامی شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے خلاف جنگ کے لیے امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔
تقریباً 300 فوجیوں کا یہ دستہ شدت پسندوں کی فضائی نگرانی کے علاوہ علاقے میں جاری مہمات میں مدد کرے گا۔
<link type="page"><caption> بوکوحرام کو جلد شکست ہو جائےگی؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/10/151002_bokoharam_analysis_rh" platform="highweb"/></link>
افریقی ملک کیمرون اور چاڈ شمالی نائجیریا کے شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں۔
صدر اوباما نے کہا ہے کہ ضرورت پوری ہونے تک امریکی فوجی کیمرون میں تعینات رہیں گے۔
امریکی کانگریس کو مطلع کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ 90 فوجیوں کا ایک گروہ پیر کو ہی کیمرون روانہ کر دیا گیا ہے۔
نیروبی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ٹومی اولاڈپو کا کہنا ہے کہ امریکہ اس علاقے میں اپنے ساتھیوں اور مفادات کے لیے بوکو حرام کے بڑھتے ہوئے خطرے کو بھانپ چکا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بوکو حرام اور دیگر شدت پسند گروہوں کے مغربی افریقہ میں پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ کے نگرانی کرانے والے جہازوں اور عملے نے گذشتہ برس شمال مشرقی نائجیریا سے اغوا ہونے والی سکول کی طالبات کی تلاش میں مدد دی تھی تاہم بوکو حرام کے خلاف پہلی مرتبہ امریکہ نے اپنی جنگی فوج روانہ کی ہے۔
کیمرون اس وقت سے بوکو حرام کے نشانے پر آیا ہے جب سے اس نے شدت پسند گروہ کے خلاف نائجیریا کی لڑائی کی حمایت کا اعلان کیا۔
کیمرون میں اتوار کو دو خواتین خود کش حملہ آورووں کے حملے میں کم سے کم نو افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہScreen Grab







