نائجیریا: بازار میں بم دھماکہ، ’47 افراد ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہnig
نائجیریا میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال مشرقی صوبے بورنو کےایک شہر کے بازار میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 47 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
فوجی ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ بورنو کے جنوبی شہر سابون گری میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 52 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
یہ دھماکہ شہر میں جانوروں کی منڈی جیبو میں مقامی وقت کے مطابق منگل کو ڈیڑھ بجے ہوا۔
یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ آیا بم دھماکہ خودکش حملہ تھایا پھر بم کو کہیں نصب کرنے کے بعد اڑایا گیا تھا۔
خیال رہے کہ مئی میں نائیجیریا میں صدر محمد بحاری کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے 800 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNigerian Army
نائجیریا کے ان علاقوں میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام سرگرم ہے جبکہ اس پر ملک میں سینکڑوں افراد کو ہلاک کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب وہ پڑوسی ممالک کیمرون، چاڈ اور نائجر میں بھی سرگرم ہو رہا ہے۔
دوسری جانب عالمی اینگلیکن چرچ کے ایک سینیئر رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ بوکو حرام کو شکست دینے کے لیے نائجیریا کے مسیحی رہنماؤں کو مسلمانوں کے ساتھ بہت مل جل کر کام کرنا چاہیے۔
نائجیریا سے تعلق رکھنے والے آرچ بشپ جوشیا ایڈوو فیرون اینگلیکن چرچ کے سیکریٹری جنرل ہیں اور یہ کمیونین دنیا بھر میں پھیلے ساڑھے آٹھ کروڑ پروٹیسٹینٹ کی نمائندگی کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران انھوں نے کہا چرچ کے بعض اراکین کی جانب سے نائجیریا میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین ان کی بات چیت کو فروغ دینے کی کوششوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ انھیں خوف ہے کہ ملک کو ’اسلامی‘ بنایا جا رہا ہے۔







