نائجیریا کے صدر نے مسلح افواج کے سربراہان کو برطرف کر دیا

صدر بہاری نے حکومت میں آتے ہی اس اضافی دستے کی کوششیں تیز کر دی تھیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنصدر بہاری نے حکومت میں آتے ہی اس اضافی دستے کی کوششیں تیز کر دی تھیں

نائجیریا کے صدر محمد بہاری کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے ملک کی بری، بحری اور فضائی فوج کے سربراہوں کو برطرف کر دیا ہے۔

امید ہے کہ صدر بہاری جلد ہی ان کی جگہ نئے سربراہوں کے ناموں کا اعلان کریں گے۔

صدر کے اس فیصلے پر حیرانی کا اظہار نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ صدر بہاری شدت پسند تنظیم بوکو حرام سے نمٹنے میں فوج کی نااہلی پر انھیں مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

.بیشتر علاقوں پر قبضہ کھو دینے کے بعد بوکو حرام نے حال ہی میں جان لیوا گوریلا حملوں کا آغاز کیا ہے جس کے نتیجے میں 250 سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ تینوں افواج کے نئے سربراہان بوکو حرام سے نمٹنے کے لیے ہمسایہ ممالک چاڈ، کیمرون اور نائجر کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

یاد رہے کہ بوکو حرام نے ان تینوں ملکوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔

کیمرون کی فوج کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی شام کو کیمرون میں ہونے والے حملے میں 12 شہری ہلاک ہوگئے۔

ادھر نائجیریا کی سرحد کے قریب فوٹوکال نام علاقے میں دو فوجی اہلکار بھی دو خودکش حملہ آورں کے ساتھ ہلاک ہو گئے۔

بوکو حرام سے نمٹنے کے لیے ساڑھے سات ہزار کی اضافی فوج کا ہیڈ کوارٹر چاڈ میں ہوگا اور اس کی سربراہی نائجیریا کرے گا۔

مئی میں اقتدار سنبھالنے کے بعد صدر بہاری نے اس اضافی دستے کی تعیناتی کی کوششیں تیز کر دی تھیں۔

سنیچر کی صبح کو چاڈ کے دارالحکومت میں ہونے والے حملے میں 15 لوگ اس وقت ہلاک ہو گئے جب ایک برقع پوش خود کش حملہ آور نے خود کو اڑا دیا۔

اس حملے کی ذمہ داری بوکو حرام نے قبول کی۔

نائجیریا میں بی بی سی کے نامہ نگار ول راس نے بتایا کہ ملک کی بری فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل کینتھ مینیما نے اپنی برطرفی سے کچھ ہی گھنٹے قبل یہ بیان دیا تھا کہ بوکو حرام کے حملوں میں تیزی کی وجہ یہ ہے کہ فوج کو ان کے خلاف کامیابیاں مل رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ تنظیم فوج سے لڑنے کی صلاحیت کھو چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب وہ آسان اہداف پر بم حملے کر رہی ہے۔