نائجیریا میں’بوکوحرام کے حملوں میں 150 افراد ہلاک‘

بوکو حرام کا قیام 2002 میں ہوا تھا اور اس نے تعلیم کو مغربی طرز کا قرار دے کر اس کی مخالفت کی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبوکو حرام کا قیام 2002 میں ہوا تھا اور اس نے تعلیم کو مغربی طرز کا قرار دے کر اس کی مخالفت کی تھی

نائجیریا کی شمال مشرقی ریاست بورنو میں اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے حملوں میں 150 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بدھ کی شام کو مسلح افراد نے جھیل چاڈ کے قریب ککوا گاؤں پر حملہ کر کے خواتین اور بچوں سمیت 97 افراد کو ہلاک کر دیا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عینی شاہد بابمی الحاجی کولو نے بتایا کہ بدھ کو 50 کے قریب شدت پسندوں نے ککوا گاؤں پر حملہ کیا۔

انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ماہِ رمضان میں افطاری کے بعد مساجد میں نماز پڑھنے والے افراد کو نشانہ بنایا۔

’انھوں نے عبادت کرنے والوں پر فائرنگ شروع کر دی، ان میں زیادہ تر مرد اور بچے تھے۔‘

مونگنو شہر کے ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے قریب کے دو دیہاتوں سے فائرنگ کی آوازیں سنی تھیں اور وہاں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔

’ لوگ وہاں نماز پڑھ رہے تھا کہ بوکوحرام نے حملہ کر دیا، انھوں نے پہلے نماز ختم ہونے کا انتظار کیا اور اس کے بعد سب کو ایک میدان میں جمع کر کے مردوں کو خواتین سے الگ کر کے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔ ان میں سے کئی ہلاک ہو گئے اور کچھ جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔ میں نے پانچ زخمیوں کو دیکھا جو بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے‘۔

مونگنو شہر کے قریب واقع دو دیہات کے لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سے پہلے منگل کو شدت پسندوں نے 48 افراد کو اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا جب وہ عبادت کے بعد واپس اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔

مونگنو پر بوکو حرام نے حال ہی میں دوبارہ قبضہ کیا ہے۔ حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بوکوحرام نے 2009 سے اب تک شمال نائجیریا میں 17 ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔

’وکوحرام نے 2009 سے اب تک شمال نائجیریا میں 17 ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے‘

،تصویر کا ذریعہBOKO HARAM

،تصویر کا کیپشن’وکوحرام نے 2009 سے اب تک شمال نائجیریا میں 17 ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے‘

نائجیریا کی فوج نے جسے ہمسایہ ممالک کے فوجی دستوں کی مدد حاصل ہے، فروری میں بوکو حرام کے خلاف کارروائی شروع کر رکھی ہے اور بہت سے ایسے علاقے پر واپس کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس پر شدت پسندوں نے پچھلے سال تک قبضہ کر رکھا تھا۔

بوکو حرام کا قیام 2002 میں ہوا تھا اور اس نے تعلیم کو مغربی طرز کا قرار دے کر اس کی مخالفت کی تھی۔بوکو حرام کا ہاؤسا زبان میں مطلب ہے ’مغربی تعلیم ممنوع ہے۔‘

اس نے 2009 میں اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے فوجی کارروائی شروع کی۔زیادہ تر شمالی نائجیریا میں اب تک ہزاروں افراد بوکو حرام کا نشانہ بن چکے ہیں۔

اس شدت پسند تنظیم نے دارالحکومت ابوجا میں پولیس اور اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر پر بھی حملہ کیا ہے۔

سکول کی دو سو طالبات سمیت سینکڑوں افراد اس تنظیم کے ہاتھوں اغوا ہوئے ہیں۔اس تنظیم نے دولتِ اسلامیہ سے وفاداری کا عہد کر رکھا ہے۔