نائجیریا میں بم دھماکوں میں کم از کم 49 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہEPA
نائجیریا میں حکام کے مطابق ملک کے شمالی مشرقی شہر گومبے میں دو بم دھماکوں میں کم از کم 49 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔
حکام کے مطابق بم دھماکے ایک بازار میں اس وقت کیے گئے جب مسلمان ماہ رمضان کے اختتام پر عید کی خریداری میں مصروف تھے۔
ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ مئی میں صدر محمدو بہاری نے اقتدار میں آنے کے بعد شدت پسند تنظیم بوکو حرام کی جانب سے حملوں میں شدت آئی ہے۔
حالیہ حملے کے بارے میں بوکو حرام نے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
بازار میں ایک تاجر علی ناصرو نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انھوں نے ’لوگوں نے زمین پر مردہ حالت میں لیٹے‘ دیکھا اور تاجروں اور خریداری کرنے والوں نے امدادی کاموں میں بھی حصہ لیا۔
بازار میں خریداری کرنے والے ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ بم دھماکے کی نوعیت کے بارے میں تاحال معلوم نہیں ہوسکا تاہم اطلاعات کے مطابق بم ایک پلاسٹک کے تھیلے میں رکھا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
واضح رہے کہ یہ حملہ نئے فوجی سربراہان کی تعیناتی کے بعد کیا گیا جنھوں نے دو روز قبل ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں چھ سال سے جاری شورش کو ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بوکوحرام ماضی میں گومبے شہر کے بازاروں اور بس سٹیشنوں کو نشانہ بنا چکی ہے۔
گذشتہ سال اس شدت پسند گروہ نے ملک کے شمال مشرقی حصے پر اپنا کنٹرول حاصل کرتے ہوئے یہاں خلافت کا نفاذ کر دیا تھا۔
نائجیریا کی فوج نے ہمسایہ ممالک کی افواج کی مدد سے بیشتر علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا تاہم حالیہ ہفتوں میں خودکش حملوں میں دوبارہ شدت آئی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سنہ 2009 میں بوکوحرام کے ابھرنے سے اب تک تقریباً 17 ہزار ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بیشتر عام شہری شامل ہیں۔







