بوکو حرام نے راکٹ بنانے والی فیکٹری کی تصاویر جاری کر دیں

شدت پسند تنظیم بوکوحرام نے شمال مشرقی نائجیریا میں راکٹ بنانے کی فیکٹری کی تصاویر جاری کر دی ہیں۔
شدت پسند تنظیم ماضی میں راکٹ سے داغے جانے والے بموں کا استعمال کرتا رہا ہے جس پر نائجیریا کے لوگوں کی طرف سے یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ انھیں ہتھیاروں کی فراہمی کہاں سے ہو رہی ہے۔
تصاویر سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ تنظیم کے چند اراکین کو کسی حد تک ہتھیار بنانے کی تکنیکی معلومات ہیں۔
تصاویر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بورنو ریاست کے ایک کالج میں کھینچی گئی ہیں۔
تصاویر بی بی سی کو بذریعہ وٹس ایپ میسج کیمرون کے ایک ٹیلی فون نمبر سے بھیجی گئی تھیں اور یہ تصاویر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے منسلک ویب سائٹوں پر بھی شائع کی جا چکی ہیں۔ یاد رہے کہ بوکوحرام نے دولت اسلامیہ سے وابستگی کا اظہار کر رکھا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ مشینیں حال ہی میں دوبارہ بوکوحرام کے قبضے میں آنے والے شمال مشرقی نائجیریا کے شہر باما میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہContributor
تصاویر میں مشینوں کے اوپر گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج باما کا مخفف جی ٹی سی بی دیکھا جا سکتا ہے۔
تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ وہ مشینیں ہیں جو سنہ 2005 میں ایجوکیشنل ٹرسٹ فنڈ (ای ٹی ایف) کے تحت کالج کو فراہم کی گئی تھیں۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ تصاویر کب کھینچی گئی تھیں اور آیا اب ان مشیبوں کو باما سے منتقل کر دیا گیا ہے۔
سرکاری فوج کی جانب سے بوکوحرام کے زیرقبضہ زیادہ تر علاقوں کو واپس لے لیا گیا ہے۔ تاہم شدت پسند تنظیم کی جانب سے اب بھی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ خاص طور پر بورنو ریاست میں جہاں باما واقع ہے۔







