بوکو حرام کی وجہ سے ’10 لاکھ بچے سکول نہیں جا سکتے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بچوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے فنڈ یونیسیف نے کہا ہے کہ نائیجیریا اور اس کے قریب تین ہمسایہ ممالک میں اسلامی انتہاپسندی کی وجہ سے تقریباً 10 لاکھ بچے سکول جانے سے محروم ہیں۔
یونیسیف نے کہا کہ دو ہزار سے زائد سکول بند کیے گئے جبکہ سینکڑوں کو لوٹا اور نذر آتش کیا گیا۔
شدت پسند تنظیم بوکو حرام کی جانب سے چھ سال کی بغاوت نے شمال مشرقی نائیجیریا کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ کیمرون، چاڈ اور نائیجر کے علاقوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
نائیجیریا کے صدر محمدو بہاری نے بوکو حرام کو ختم کرنے کے لیے فوج کو دسمبر کے اختتام تک کی مہلت دی ہے۔
ملک کے دارالحکومت ابوجا میں بی بی سی کے نامہ نگار بشیر سعد عبدالہی کا کہنا تھا کہ اس مہلت میں توسیع کا امکان ہے کیونکہ مارچ میں اپنے زیر قبضہ علاقے کھونے کے باوجود بوکو حرام اب بھی کچھ علاقوں پر بم حملے کر رہی ہے۔
بوکو حرام کے حملوں سے اب تک 17 ہزار افراد ہلاک اور 20 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی نائیجیریا میں ریاست بورنو سمیت کئی علاقوں کے سکول ان لوگوں کی رہائش کے لیے عارضی طور پر خیموں میں تبدیل کر دیے گئے ہیں جنھیں اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔
بوکو حرام نے مغربی تعلیم کی مخالفت کرنے کی وجہ سے بھی سکولوں پر حملے کیے ہیں جو بقول تنظیم مسلمانوں کی اقدار خراب کر رہی ہے۔
اپریل سنہ 2014 میں شدت پسند تنظیم نے شمال مشرقی علاقے چبوک سے 200 سے زائد طلبہ کو ایک بورڈنگ سکول سے اغوا کیا تھا۔
اس واقعے کے بعد بوکو حرام اور اس کی سرگرمیاں دنیا کی توجہ کا مرکز بنی تھیں۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق نائیجیریا کا شمال مشرقی حصہ ہمیشہ ملک کے سب سے غریب ترین حصوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جہاں تعلیم کا معیار کم ہے۔
بوکو حرام کی بغاوت کی وجہ سے خطے میں پہلے سے ہی خراب مالی اور اقتصادی حالات مزید ابتر ہوئے ہیں۔
ستمبر میں بورنو کے گورنر کشیم شیتیما نے کہا تھا کہ بوکو حرام کی جانب سے تباہ کیے گئے شہر کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو میں ایک ارب ڈالر کا خرچہ آئے گا۔







